اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی 38 ویں رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کی مسلسل حمایت کی وجہ سے پاکستان میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردانہ حملوں کی شدت اور مہلک پن میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش خراسان اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے درمیان بڑھتے ہوئے آپریشنل اور سہولت کاری کے رابطوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان حکام نے ٹی ٹی پی کو قابو میں لانے کے لیے کچھ ابتدائی اقدامات کیے ہیں، لیکن ان کا مقصد اس کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے بجائے صرف معاملے کو سنبھالنا دکھائی دیتا ہے۔ افغان حکام نے تقریباً 2,000 ٹی ٹی پی جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو پاکستانی سرحد سے ہٹا کر افغانستان کے اندرونی حصوں میں منتقل کیا۔ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ نے بیک چینل رابطوں کے ذریعے ٹی ٹی پی کی قیادت کو پاکستان کے خلاف حملے روکنے یا حمایت سے محروم ہونے کا انتباہ دیا ہے۔ تاہم پاکستان کے لیے جنگجوؤں کی منتقلی سے اصل مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ ٹی ٹی پی کی کمانڈ، تربیت اور لاجسٹک نیٹ ورک اب بھی برقرار ہیں۔ ٹی ٹی پی نے اپنے تنظیمی ڈھانچے کو وسیع کرتے ہوئے بلوچستان، پنجاب، کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے دو نئے ڈویژن اور ایک “ٹی ٹی پی ایئر فورس” ڈویژن قائم کرنے کا اعلان کیا۔ مارچ میں گروپ نے اپنی بہاریہ مہم “آپریشن خیبر” کا آغاز کیا، جس کے بعد 16 فروری کو باجوڑ میں ایک بارودی دھماکے میں 11 سیکیورٹی اہلکار اور ایک بچہ جاں بحق ہوئے۔ یو این رپورٹ کے مطابق افغانستان میں متحرک دہشت گرد گروہوں کے درمیان سرحدیں اب دھندلا رہی ہیں: القاعدہ کے نشریاتی ادارے ‘السحاب’ نے 28 اپریل کو پہلی بار ٹی ٹی پی کی علانیہ حمایت کی، جبکہ ایک رکن ملک کے مطابق افغانستان میں القاعدہ کے ٹرینرز نے ٹی ٹی پی کے ساتھ ساتھ بی ایل اے کے دہشت گردوں کو بھی تربیت دی۔ اس کے رہنما کابل میں مقیم ہیں اور افغان تذکرہ (شناختی کارڈ) حاصل کر چکے ہیں، جو طالبان کے ساتھ ان کے قریبی تعاون کو ظاہر کرتا ہے۔ داعش خراسان کو خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے جو اب اعلیٰ سطح کے اور زیادہ سے زیادہ جانی نقصان والے حملوں کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔ اس گروپ نے جدید تکنیکی آلات اور ڈرون ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش کے حملے افغانستان میں کم لیکن پاکستان میں بڑے ہیں، جیسے کہ اسلام آباد کی خدیجہ الکبریٰ مسجد میں 6 فروری کا خودکش دھماکا (جس میں 32 افراد جاں بحق ہوئے) اور 5 مئی کو خیبر پختونخوا میں شیخ محمد ادریس کا قتل۔مجموعی طور پر رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز انتہائی پیچیدہ اور ہمہ جہت ہو چکے ہیں۔
پاکستان
یو این رپورٹ کا انکشاف، افغان طالبان کی حمایت سے پاکستان میں ٹی ٹی پی حملوں میں اضافہ
