عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 2022 کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے اور اس میں 20 فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جی سیون ممالک کے وزرائے خزانہ پیر کو ہنگامی اجلاس منعقد کریں گے جس میں قیمتوں میں اچانک اضافے سے نمٹنے کے لیے تیل کے ذخائر کے ممکنہ مشترکہ اجرا پر گفتگو کی جائے گی۔
یہ تیل کے ذخائر بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور اس گروپ کے 32 رکن ممالک کے پاس اس ہنگامی اقدام کے تحت سٹریٹیجک ذخائر موجود ہیں جو تیل کی قیمتوں میں بحران کے وقت استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
فنانشل ٹائمز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکہ سمیت تین جی سیون ممالک ممکنہ مشترکہ اقدام کی حمایت کا اظہار کر چکے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار ہنری جیفمین کے مطابق برطانوی چانسلر ریچل ریوز بھی اس ہنگامی اجلاس میں شرکت کریں گی۔ اجلاس کی ورچوئل میزبانی فرانس کر رہا ہے۔
