صحت

چیا سیڈز کے استعمال سے پہلے احتیاط ضروری، ماہرین نے چند افراد کو خبردار کردیا

چیا سیڈز کو صحت بخش غذاؤں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ان میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، فائبر، پروٹین، وٹامنز اور مختلف معدنیات بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ یہ بیج ہاضمہ بہتر بنانے، جسم میں سوزش کم کرنے اور وزن کو متوازن رکھنے میں مددگار سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم طبی ماہرین کے مطابق یہ ہر شخص کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند نہیں ہوتے اور بعض افراد کو ان کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ افراد کے لیے چیا سیڈز کا استعمال مسائل پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر وہ لوگ جنہیں نگلنے میں دشواری یا غذائی نالی کی تنگی کا مسئلہ ہو۔ ماہرین کے مطابق چیا سیڈز پانی میں بھگونے کے بعد کئی گنا پھول جاتے ہیں، اس لیے انہیں خشک حالت میں کھانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس صورت میں یہ بعض اوقات غذائی نالی میں پھنس سکتے ہیں۔

اسی طرح آنتوں کے مسائل خصوصاً آئی بی ایس کے مریضوں کو بھی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ چیا سیڈز میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور اچانک زیادہ فائبر لینے سے پیٹ پھولنا، گیس اور درد جیسی شکایات بڑھ سکتی ہیں۔ ایسے افراد جو خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کر رہے ہوں انہیں بھی زیادہ مقدار لینے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے کیونکہ ان بیجوں میں موجود اومیگا تھری خون کو مزید پتلا کرنے کا اثر رکھتا ہے۔

مزید یہ کہ شدید ہاضمے کے مسائل جیسے معدے کی حرکت سے متعلق بیماریوں میں بھی چیا سیڈز کا جیلی نما فائبر ہاضمے کو مشکل بنا سکتا ہے۔ جن لوگوں کو بیجوں سے الرجی ہو انہیں بھی ان کے استعمال سے احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ اس سے الرجک ردعمل کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق زیادہ تر افراد کے لیے چیا سیڈز محفوظ اور مفید ہوتے ہیں، تاہم انہیں صحیح طریقے اور مناسب مقدار میں استعمال کرنا ضروری ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ابتدا میں ایک کھانے کے چمچ سے آغاز کیا جائے اور بیجوں کو استعمال سے پہلے پانی، دہی یا اسموتھی میں بھگو لیا جائے۔ بعد میں آہستہ آہستہ مقدار بڑھا کر دو کھانے کے چمچ تک کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو پہلے سے صحت کے مسائل درپیش ہوں تو روزمرہ غذا میں چیا سیڈز شامل کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *