صحت

مردوں میں گنج پن کی بڑی وجہ سامنے آ گئی، نئی تحقیق میں آنتوں کی صحت سے اہم تعلق کا انکشاف

دنیا بھر میں بالوں کا جھڑنا ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے، خاص طور پر مردوں میں یہ مسئلہ نہ صرف ظاہری شکل کو متاثر کرتا ہے بلکہ نفسیاتی دباؤ اور اعتماد میں کمی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ حالیہ تحقیق میں ایک حیران کن پہلو سامنے آیا ہے جس کے مطابق مردوں میں گنج پن کی ایک بڑی اور اکثر نظر انداز کی جانے والی وجہ آنتوں کی خراب صحت بھی ہو سکتی ہے۔

صحت سے متعلق ایک تحقیق میں دسمبر 2024 سے دسمبر 2025 تک بھارت کے مختلف علاقوں سے 1 لاکھ 60 ہزار سے زائد مردوں کے صحت سے متعلق خود فراہم کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق میں مہاراشٹر، اتر پردیش، دہلی این سی آر، تلنگانہ، بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال، گجرات اور تمل ناڈو جیسے علاقوں کو شامل کیا گیا۔

ماہرین نے آنتوں کی صحت کو جانچنے کے لیے قبض کی شکایات کو بنیادی پیمانہ بنایا۔ تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ 2025 میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کم مردوں نے بہتر نظامِ ہاضمہ کی اطلاع دی جبکہ بڑے اور مصروف شہری علاقوں میں آنتوں کی صحت زیادہ تیزی سے متاثر ہوئی۔ اعداد و شمار کے مطابق تلنگانہ میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، اس کے بعد راجستھان اور دہلی این سی آر کا نمبر رہا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جدید طرزِ زندگی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے۔ فاسٹ فوڈ اور پراسیسڈ خوراک کا زیادہ استعمال، کھانے کے بے ترتیب اوقات، پانی کی کمی اور ذہنی دباؤ کے دوران معمول سے زیادہ کھانا کھانا ایسے عوامل ہیں جو آنتوں کی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق آنتیں جسم میں پروٹین، آئرن، زنک اور وٹامن بی جیسے اہم غذائی اجزاء کو جذب کرتی ہیں جو بالوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ اگر نظامِ ہاضمہ متاثر ہو جائے تو یہ غذائی اجزاء بالوں کی جڑوں تک مؤثر طریقے سے نہیں پہنچ پاتے، جس کے نتیجے میں بال کمزور ہو کر قبل از وقت جھڑنے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ آنتوں کی خرابی جسم میں مسلسل سوزش پیدا کر سکتی ہے جو بالوں کے گرنے کے عمل کو مزید تیز کر دیتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوں کا گرنا صرف ظاہری خوبصورتی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ جسم کے اندر موجود صحت کے مسائل کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ اسی لیے بالوں کے علاج کے ساتھ ساتھ آنتوں کی صحت، متوازن غذا، ہارمونز کے توازن اور ذہنی دباؤ کو بھی سنجیدگی سے لینا ضروری ہے تاکہ اس مسئلے پر بہتر طور پر قابو پایا جا سکے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *