صحت

کیا ملٹی وٹامنز بڑھاپے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں؟ نئی تحقیق میں دلچسپ نتائج سامنے آ گئے

حالیہ سائنسی تحقیق سے یہ دلچسپ امکان سامنے آیا ہے کہ روزانہ ملٹی وٹامن سپلیمنٹس کا استعمال بڑھاپے کے عمل کو کسی حد تک سست کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن ابتدائی نتائج صحت اور عمر رسیدگی کے بارے میں نئی امید پیدا کرتے ہیں۔

ایک سائنسی تحقیق کے مطابق وہ عمر رسیدہ افراد جو دو سال تک روزانہ ملٹی وٹامن سپلیمنٹ استعمال کرتے رہے، ان میں بڑھاپے کے اثرات ان افراد کے مقابلے میں تقریباً چار ماہ تک سست دیکھے گئے جو یہ سپلیمنٹس استعمال نہیں کر رہے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا مقصد صرف یہ جاننا نہیں تھا کہ انسان زیادہ عرصہ تک کیسے زندہ رہ سکتا ہے بلکہ یہ بھی سمجھنا تھا کہ بڑھتی عمر میں صحت مند اور بہتر زندگی کیسے گزاری جا سکتی ہے۔

تحقیق کے لیے سائنس دانوں نے 70 برس سے زائد عمر کے 958 صحت مند افراد کے خون کے نمونوں کا جائزہ لیا۔ شرکاء کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے کے لیے محققین نے خون میں موجود پانچ مختلف ایپی جینیٹک کلاکس کا تجزیہ کیا۔ یہ دراصل ایسے بائیو مارکرز ہوتے ہیں جو ڈی این اے میتھائلیشن کے مخصوص پیٹرنز کو ناپ کر جسم میں حیاتیاتی بڑھاپے کی رفتار کا اندازہ لگانے میں مدد دیتے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں موجود ان سالماتی نشانات کی سطح مخصوص انداز میں تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ روزانہ ملٹی وٹامن لینے والے افراد میں ان پانچ میں سے دو ایپی جینیٹک کلاکس میں بڑھاپے کے اشاریوں کی رفتار نمایاں طور پر سست ہو گئی، جو ممکنہ طور پر موت کے خطرے سے بھی منسلک ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ ملٹی وٹامنز کے اثرات بہت زیادہ نہیں ہیں، لیکن مختلف بائیولوجیکل پیمانوں میں ایک جیسا رجحان ظاہر ہونا اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مناسب غذائیت اور سپلیمنٹس صحت مند بڑھاپے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ عام لوگوں میں اس بات کے بارے میں خاصی دلچسپی پائی جاتی ہے کہ کیا روزمرہ استعمال ہونے والے سپلیمنٹس واقعی بڑھاپے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں۔ اس تحقیق نے اس سوال کے حوالے سے کچھ قابلِ اعتماد شواہد فراہم کیے ہیں، تاہم ماہرین مزید تحقیقات کے بعد ہی اس بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *