راولپنڈی: ملک کی سلامتی، خودمختاری اور داخلی استحکام کے تحفظ کے لیے پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی، پرتشدد انتشار اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والی کسی بھی کوشش کا قانون کے مطابق بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں قومی سلامتی سے متعلق اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عسکری کارروائیوں کے ساتھ مو¿ثر حکمرانی اور عوامی سطح پر رابطہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ ترجمان افواج پاکستان آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادر وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اور معصوم شہریوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ شرکاء نے شہداء کی بے مثال قربانیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔کانفرنس میں افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے واضح کیا گیا کہ ایسی کارروائیوں کے خلاف ہدفی اقدامات پاکستان کا دفاعی حق ہیں۔ فورم نے کہا کہ ہندوستان کے آلہ کار کے طور پر دہشت گردی کے سنگین نتائج کی ذمہ داری طالبان کی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔کور کمانڈرز کانفرنس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مسلسل کامیاب انٹیلی جنس بنیاد کارروائیوں کو بھی سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بنیاد آپریشنز کو مزید مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھا جائے گا۔شرکاءنے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف زمینی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ مو¿ثر انتظامی اقدامات اور بہتر حکمرانی بھی ناگزیر ہیں۔ فورم کے مطابق گورننس کو بنیادی سطح پر عوام کے قریب لانا ہوگا، جبکہ دہشت گردی کی وجوہات اور اس کے طریقہ کار سے متعلق عوام کے ساتھ مو¿ثر رابطہ کاری اور مناسب بیانیے پر بھی کام ضروری ہے۔کانفرنس میں دہشت گردی اور جرائم کے باہمی تعلق کو ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ فورم نے کہا کہ مخصوص عناصر کے زیر سایہ چلنے والے جرائم اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو توڑنا ضروری ہے، جبکہ پولیس کی استعداد کار میں اضافے کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ملک میں داخلی استحکام کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کور کمانڈرز کانفرنس نے واضح کیا کہ کسی بھی جواز پر پرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کو قانون کے مطابق بلاامتیاز اور فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا۔کانفرنس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کیا گیا۔ فورم نے اسے دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات اور مشترکہ دفاعی تعاون کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔شرکاء نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور حرمین شریفین کے تحفظ و تقدس کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔کور کمانڈرز کانفرنس میں مسئلہ کشمیر کے حل پر بھی پاکستان کے مو¿قف کا اعادہ کیا گیا۔ شرکاءنے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے فارمیشنز کو ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی کے حصول، تربیت اور تمام جنگی شعبوں کے باہمی انضمام کے ذریعے دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کیا جائے۔ فیلڈ مارشل نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ قوم کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں
اہم خبرپاکستان
کور کمانڈرز کانفرنس: دہشت گردی اور پرتشدد انتشار کیخلاف فیصلہ کن کارروائی جاری رکھنے کا عزم
