اہم خبرپاکستان

گورنر راج یا ایمرجنسی سے پہلے سیاسی جماعتوں کو راستہ تلاش کرنا چاہیے: بلاول بھٹو

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا حل آئینی اور سیاسی راستوں سے تلاش کیا جانا چاہیے، جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر دہشت گردی کے خلاف مو¿ثر اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور افغانستان سے ہونے والے حملوں کے تناظر میں وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ پر غور کر رہی تھی، تاہم پیپلز پارٹی کی رائے تھی کہ ایسے کسی اقدام سے قبل تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر سیاسی حل تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو موجودہ صورتحال کا سیاسی حل نکالنا چاہیے اور پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کے ذریعے لانگ مارچ ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے، تاہم موجودہ حالات میں ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو سیاسی کشیدگی میں کمی کا باعث بنیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک طرف خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت سیاسی سرگرمیوں اور احتجاج پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب صوبے میں مسلسل دہشت گردی کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اس صورتحال پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت سے مو¿ثر تعاون نہیں کر رہی۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہونے کی صورت میں معاملات گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے آئینی اقدامات کی طرف بھی جا سکتے ہیں، جن کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے۔انہوں نے تمام سیاسی فریقین پر زور دیا کہ تحریک انصاف کے احتجاج اور لانگ مارچ کے معاملے پر قابل قبول راستہ نکالا جائے اور ایسا اتفاق رائے پیدا کیا جائے جس کے تحت سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ قومی حکمت عملی اختیار کی جاسکے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جن علاقوں کو سنگین سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے وہاں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ دہشت گردی کے مسئلے کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جائے کیونکہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات کامیاب ہوں گے اور ان کے نتیجے میں ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہوگا، جو تمام سیاسی جماعتوں، صوبوں اور پاکستان کے مفاد میں ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشت گردی پیپلز پارٹی کے لیے ریڈ لائن ہے اور خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہونے کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ سیاسی قیادت کو ایسے فیصلے کرنا ہوں گے جو ملک کو مزید بحرانوں سے بچانے اور دہشت گردی کے مو¿ثر مقابلے میں معاون ثابت ہوں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *