اہم خبرپاکستان

آپ کا لیڈر عمران خان، ان کی اہلیہ اور بہنیں جیل میں ہیں، پاکستان کیلئے گھروں سے نکلیں،سہیل آفریدی

سرائے نورنگ؛وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے عوام سے کہا ہے کہ آپ کا لیڈر عمران خان، ان کی اہلیہ اور بہنیں جیل میں ہیں، آپ پاکستان کے لئے گھروں سے نکلیں اور دنیا کو بتا دیں کہ آپ ہی اس ملک کے اصلی مالک ہیں۔ یہاں گنڈی چوک پر لانگ مارچ کے ہزاروں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی سیاسی ٹمپریچر کم کرنے کے لئے اسلام آباد گئی تھی لیکن بند کمروں میں فیصلہ کرنے والوں نے ان مذاکرات کو سبوتاژ کیا وہ چاہتے تھے کہ کے پی میں ان کی جو مرضی ہوگی وہی ہوگا میں نے کہا کہ کے پی میں عمران خان کا وژن اور پالیسی چلے گی کسی ایسی پالیسی کو نہیں مانتے جو کے پی کے لوگوں اور پشتونوں کے حق میں نہ ہو۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ہم جی جناب والے نہیں ہم عمران خان کے سپاہی ہیں اور ان کی پالیسی کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے مجمع سے بار بار پوچھا آیا وہ ملٹری آپریشن کو مانتے ہیں، جو آپریشن کے خلاف ہیں وہ ہاتھ کھڑا کریں، آپ نے جس لیڈر کو ووٹ دیا ہے، اس کا سپاہی ڈٹ کر کھڑا ہے ایسی کسی پالیسی کو نہیں مانتے جس پر باہر کے ملکوں میں جزیرے اور فلیٹس خریدے جاتے ہوں یہ کیسی پالیسی ہے کہ سال سے دہشت گردی ختم نہیں ہورہی عمران خان کی حکومت میں امن تھا کیونکہ ان کی پالیسی ٹھیک تھی لیکن رجیم چینج آپریشن کے بعد انہوں نے دوبارہ دہشت گردوں کو آباد کیا انہوں نے کہا کہ جو خود آگ لگاتے ہیں وہ بجھاتے نہیں، ہم دہشت گردی کو ختم کریں گے اوراگر ہماری پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100دن میں امن لائیں گے، آج جی چوک سے لانگ مارچ شروع کررہے ہیں اور یہ کسی اور چوک پر اختتام پذیر ہوگا اس پر مجمع نے کہا کہ ڈی چوک۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک سیاسی قوت اور جماعت ہیں، اور جو لوگ پی ٹی آئی کے خاتمے کا خواب دیکھتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے،انہوں نے مزید کہا کہ ہم اب یہاں سے روانہ ہوں گے اور اگلا پڑاؤ کرک میں ہوگا۔ قبل ازیں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلی سہیل آفریدی انڈس ہائی وے پر واقع گنڈی چوک سے لانگ مارچ کی قیادت کے لئے ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت پہنچے، وزیرِ اعلی کی آمد کے لیے ان کے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے معاونِ خصوصی طارق سعید خان کے آبائی گاں ‘میداد خیل’ کے قریب ایک خصوصی ہیلی پیڈ تیار کیا گیا تھا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ہیلی پیڈ کے ارد گرد پی ٹی آئی کارکنوں کی بڑی تعداد کو موجود دیکھا گیا۔جیسے ہی وزیرِ اعلی ہیلی کاپٹر سے باہر نکلے، کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گرد جمع ہو گئی، جس کی وجہ سے پولیس کے لیے انہیں ان کی گاڑی تک لے جانا مشکل ہو گیا۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے کارکن لانگ مارچ میں شرکت کے لیے سرائے نورنگ کے قریب مصروف پشاور-کراچی ہائی وے پر واقع گنڈی چوک پر جمع ہونا شروع ہو ئے، اس مقام پر پارٹی کے جھنڈے اور بینرز آویزاں کیے گئے تھے اور کارکنوں میں جوش و خروش پیدا کرنے اور ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ڈھول بجانے والوں کا بھی انتظام کیا گیاتھا۔سیکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے تھے،خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی کے مشیر برائے امورِ داخلہ و قبائلی امور، طارق سعید خان نے اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں کو بتایا کہ پی ٹی آئی قیادت کے فیصلے کے مطابق، 4اکتوبر کو گنڈی چوک سے ایک پرامن لانگ مارچ کا آغاز ہوگا جس میں جنوبی اضلاع کے قافلے شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع سے پی ٹی آئی کارکن لانگ مارچ میں شرکت کے لیے گنڈی چوک پہنچ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کچھ جنوبی اضلاع، خاص طور پر ٹانک اور وزیرستان کے کارکن امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر کرفیو اور دیگر پابندیوں کی وجہ سے آج لانگ مارچ میں شرکت نہ کر سکے، تو وہ اگلے روز پشاور جاتے ہوئے اس تحریک میں شامل ہو جائیں گے۔طارق سعید نے بتایا کہ وزیر اعلی سہیل خان آفریدی لانگ مارچ کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے باوجود پارٹی کا لانگ مارچ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق جاری رہے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لانگ مارچ کا مقصد کسی پر چڑھائی نہیں بلکہ یہ ان کے آئینی اور جمہوری حق کا استعمال ہے، وزیر اعلی مارچ کے مختلف مراحل کے دوران کارکنوں کو آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کرتے رہیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے خلاف مقدمات کی سماعت کی جائے، انہیں طبی سہولیات اور دیگر جائز حقوق فراہم کیے جائیں اور ان کی بہنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *