اسلام آباد:وفاقی آئینی عدالت نے ای او بی آئی کی اپیل منظور کرتے ہوئے تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔چیف جسٹس امین الدین خان نے تین رکنی بینچ کا بارہ صفحات پر مشتمل حکم نامہ تحریر کیا، درخواست گزار کی جانب سے عمر اعجاز گیلانی پیش ہوئے۔تحریری حکم نامہ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ، وفاقی محتسب اور صدر پاکستان کے احکامات کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔ وفاقی محتسب پنشن کی اہلیت طے کرنے کے مخصوص قانونی طریقہ کار کو نظرانداز نہیں کر سکتا، پنشن کے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والے شخص کو پنشن دینے کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔حکم نامہ میں کہا گیا کہ قانونی حق کے تنازع کو محض بدانتظامی کا نام دے کر محتسب کا دائرہ اختیار نہیں بڑھایا جا سکتا، پنشن کی درخواست مسترد ہونا بذات خود بدانتظامی نہیں، بدانتظامی کے لیے من مانی، امتیازی سلوک، غفلت یا بلاجواز تاخیر جیسے عناصر کا ہونا ضروری ہے، قانون کے لازمی تقاضوں پر عمل سے درخواست گزار کو نقصان پہنچنا بدانتظامی نہیں بن جاتا۔تحریری حکم نامہ کے مطابق ای او بی آئی قانون کے تحت پنشن کے لیے عمومی طور پر کم از کم پندرہ سال کی شراکت درکار ہے، یکم جولائی 2008 یا اس کے بعد بیمہ شدہ ملازمین پر پانچ سال کی خصوصی رعایت لاگو نہیں ہوتی، جاوید اقبال بھٹی کی بیمہ شدہ ملازمت چھ سال سے بھی کم تھی، پنشن کا حق حاصل نہیں ہوا، پہلے دی گئی 48 ہزار روپے کی اولڈ ایج گرانٹ پنشن کا حق پیدا نہیں کرتی۔عدالت نے قرار دیا کہ قانونی اہلیت کی لازمی شرط ہمدردی یا انصاف کے عمومی تصور کی بنیاد پر ختم نہیں کی جا سکتی، فوائد کی اہلیت، رقم اور مدت کا تعین ای او بی آئی قانون کی دفعہ 33 کے تحت ہوگا، ای او بی آئی قانون میں فیصلے کے خلاف نظرثانی اور اپیل کا طریقہ کار موجود ہے، بغیر دائرہ اختیار جاری حکم، صدر یا عدالت کی توثیق سے قانونی حیثیت حاصل نہیں کر سکتا، فیصلے کی وجوہات درج کرنا محض رسمی کارروائی نہیں، قانونی بنیاد واضح کرنا ضروری ہے۔
اہم خبرپاکستان
پنشن کے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والے شخص کو پنشن دینے کا حکم نہیں دیا جا سکتا،وفاقی آئینی عدالت
