انٹرنیشنلاہم خبرپاکستان

پاکستان میں طالبان کے 15 ڈرون حملے، امریکی جریدے کا تہہ دار دفاعی نظام بنانے پر زور

واشنگٹن:27 فروری سے 15 مارچ 2026 کے دوران افغان طالبان رجیم نے پاکستان میں 15 ڈرون حملے کیے اورامریکی جریدے نے خبردارکیا ہے کہ طالبان کی جانب سے پاکستان کے خلاف ڈرون جنگ میں تیزی، سستے ڈرونز دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگنے کا خطرہ بڑھ گیا،پاکستان کو ڈرونز کے خلاف الیکٹرانک وارفیئر، جیمنگ، اسپوفنگ اور دیگر ذرائع پر مشتمل تہہ دار دفاعی نظام بنانا ہوگا ۔ پاکستان کے خلاف طالبان رجیم کی بڑھتی ڈرون سرگرمیوں اور اس سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خطرے پر دی ڈپلومیٹ کا تفصیلی جائزہ سامنے آیا ہے ۔دی ڈپلومیٹ کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کے خلاف ڈرون جنگ میں تیزی، سستے ڈرونز دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگنے کا خطرہ بڑھ گیا، 27 فروری سے 15 مارچ 2026 کے دوران افغان طالبان رجیم نے پاکستان میں 15 ڈرون حملے کیے، 23 ستمبر کو افغانستان سے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 ڈرونز مار گرائے گئے، 4 طورخم اور 4 کوہاٹ کے قریب گرائے گئے۔ دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاکستان نے ڈرون حملوں کے جواب میں افغانستان میں ڈرونز کے لانچ اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے 10 مقامات کو نشانہ بنایا، حقانی نیٹ ورک سے منسلک طالبان کی 313 بٹالین خودکش یا کامیکازے ڈرونز استعمال کر رہی ہے، طالبان رجیم کے پاس ڈرون ٹیکنالوجی کی موجودگی سے فتنة الخوارج سمیت دیگر دہشتگرد گروہوںکو یہ ٹیکنالوجی منتقل ہونے کا خدشہ ہے، فتنة الخوارج اور دیگر دہشتگرد گروہ پاکستان میں کارروائیوں کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں، دی ڈپلومیٹ کے مطابق چھوٹے اور کم قیمت ڈرونز دہشت گردوں کو وہ صلاحیت فراہم کر رہے ہیں جو پہلے صرف باقاعدہ افواج کے پاس تھی، پاکستان کو ڈرون خطرے سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر م¶ثر کا¶نٹر ڈرون نظام کو ترجیح دینا ہوگی،پاکستان کو ڈرون خطرے سے نمٹنے کے لیے ریڈار، الیکٹرو آپٹیکل، انفراریڈ اور ریڈیو فریکوئنسی ٹیکنالوجی پر مشتمل نظام درکار ہے،پاکستان کو ڈرونز کے خلاف الیکٹرانک وارفیئر، جیمنگ، اسپوفنگ اور دیگر ذرائع پر مشتمل تہہ دار دفاعی نظام بنانا ہوگا، پاکستان کو ڈرون ٹیکنالوجی میں خود انحصاری بڑھانے اور مقامی سطح پر ڈرونز کی تیاری، مرمت اور اپ گریڈیشن کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی، طالبان رجیم کو پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال اور دہشت گردوں کو فوجی ٹیکنالوجی کی فراہمی روکنے کے قابلِ تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے،طویل مغربی سرحد کو جدید آلات کے استعمال سے محفوظ بنانا ہوگ

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *