اہم خبرپاکستان

یورپی یونین سے طالبان رجیم کے روابط، انسانی حقوق اور دہشت گردی پر سوالات

اسلام آباد : افغانستان میں طالبان رجیم کے ساتھ یورپی ممالک کے روابط، غیر قانونی افغان باشندوں کی ملک بدری کے معاملات میں تعاون اور انسانی حقوق کی صورتحال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ امریکی جریدے *دی نیشنل انٹرسٹ* سے منسوب نکات کے مطابق طالبان رجیم کے ساتھ تعاون یورپی یونین کے انسانی حقوق کے اصولوں اور بنیادی معیارات سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں مو¿قف اختیار کیا گیا ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے پانچ سال بعد بھی طالبان رجیم خواتین کے حقوق، لڑکیوں کی تعلیم اور دیگر بنیادی معیارات پر قابلِ ذکر پیش رفت نہیں کر سکی۔رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی، تقریباً 13 ہزار غیر ملکی دہشت گردوں اور فتنہ الخوارج کے 6 ہزار جنگجوو¿ں سے متعلق دعوے علاقائی سلامتی کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہیں۔ طالبان رجیم کے القاعدہ کے ساتھ روابط برقرار رہنے اور افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں، تربیتی مراکز اور مالیاتی نیٹ ورکس کے فعال ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔جریدے سے منسوب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2025 کے دوران افغان سرزمین سے منسلک دہشت گردی کے 5 ہزار 300 سے زائد واقعات اور 1 ہزار 200 سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ پاکستان کے علاوہ تاجکستان کو بھی افغانستان سے حملوں کے خطرات کا سامنا رہا، جبکہ 2025 میں چار روز کے اندر پانچ چینی شہریوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔رپورٹ میں طالبان رجیم کی داخلی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اعلیٰ قیادت میں خواتین کی کوئی نمائندگی نہیں، جبکہ پابندیوں کے باعث 26 لاکھ سے زائد افغان لڑکیاں ثانوی اور اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں۔ مزید برآں، طالبان حکومت کے 1,185 اعلیٰ عہدوں میں پشتونوں کا حصہ 90 فیصد ہونے اور دیگر نسلی گروہوں کی محدود نمائندگی کے دعوے بھی سامنے رکھے گئے ہیں۔ افغانستان کی شیعہ ہزارہ برادری کو درپیش امتیازی سلوک اور مذہبی پابندیوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔جریدے سے منسوب مو¿قف کے مطابق یورپی یونین کی افغانستان سے متعلق پالیسی میں عدم یکسانیت بھی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ فراہم کردہ نکات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یورپی یونین کے خصوصی نمائندے ڑیل برتران نے اگست 2026 میں پالیسی میں انتشار کی نشاندہی کرتے ہوئے استعفیٰ دیا۔رپورٹ میں یورپی یونین پر زور دیا گیا ہے کہ طالبان رجیم کے ساتھ تعلقات اور کسی بھی قسم کے تعاون کو محض وعدوں کے بجائے قابلِ تصدیق پیش رفت سے مشروط کیا جائے۔ طالبان حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کے ڈھانچے ختم کیے جائیں، لڑکیوں کی تعلیم بحال کی جائے اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔رپورٹ کے مطابق اگر طالبان رجیم ان بنیادی معیارات پر عمل درآمد نہیں کرتی تو یورپی ممالک کو اپنے روابط محدود کرنے یا ختم کرنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ جریدے سے منسوب تجزیے میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ طالبان رجیم رعایتیں حاصل کر رہی ہے، تاہم اس کے بدلے قابلِ تصدیق اصلاحات سامنے نہیں آ رہیں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *