کاروبار

ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ منگل کے روز ابتدائی کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز میں تیل کی سپلائی سے متعلق بڑھتے خدشات ہیں۔

رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کے فیوچرز 2.48 ڈالر یا 2.5 فیصد اضافے کے ساتھ 102.69 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 2.42 ڈالر یا 2.6 فیصد اضافے کے بعد 95.92 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔ اس سے قبل پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم موجودہ صورتحال نے دوبارہ مارکیٹ میں غیر یقینی پیدا کر دی ہے۔

آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم بحری راستہ ہے، اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکی اتحادیوں کی جانب سے تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات نہ کیے جانے اور ممکنہ حملوں کے خدشات نے مارکیٹ کو مزید غیر مستحکم بنا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کا حملہ یا بحری راستے میں رکاوٹ پیدا ہونے کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب، بعض بینکوں نے بھی تیل کی مستقبل کی قیمتوں کے تخمینے بڑھا دیے ہیں۔ بینک آف امریکا نے 2026 کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت کا اندازہ 77.50 ڈالر فی بیرل تک بڑھا دیا ہے، جبکہ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے بھی اپنی پیش گوئی میں اضافہ کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف توانائی کی عالمی منڈی بلکہ مہنگائی اور عالمی معیشت پر بھی گہرے مرتب ہو سکتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *