گذشتہ شب ہم سب سے اپنی سکرینوں پر وہ منظر دیکھا جس میں نجی چینل جیو نیوز کی نشریات کافی دیر تک ہیک رہی اور اس پر پہلے اردو میں پاکستانی فوج کی مخالفت میں ایک پیغام اور بعد میں ایرانی عوام کی مدد کا پیغام فارسی زبان میں نظر آیا۔
بی بی سی کو بھیجے گئے پیغام میں جیو کے میجینگ ڈائریکٹر اظہر عباس کا کہنا تھا کہ ہم اپنےناظرین کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ ’جیو نیوز جو پاکستان کے سیٹلائٹ پاک سیٹ پر ہے، اس کو کسی جانب سے پچھلے چوبیس گھنٹوں سے ہیک کرنے کی اور اس کی نشریات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اب کچھ دیر سے جیو نیوز کی نشریات کو مسلسل رکاوٹ کا سامنا ہے۔‘
پیغام میں کہا گیا کہ ’جیو نیوز کی سکرین کو ہیک کرکے نامناسب پیغام نشر کیا گیا، اس صورتحال کا جیو نیوز سے کوئی تعلق نہیں۔‘
جیو نیوز نے پاکستانی حکام سے درخواست کی ہے کہ ’اس صورتحال کا نوٹس لے کر فوری کارروائی کی جائے اور ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘
کافی لمحات تک جیو کی نشریات بحال نہیں سکیں جس کے بعد میرے جیسے بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی چینل کی نشریات ہیک کر لی جائیں؟
سیٹلائٹ ایک مصنوعی خلائی نظام ہے جو زمین کے گرد مدار میں گردش کرتا ہے۔ مواصلاتی سیٹلائٹ کا کام زمین سے بھیجے گئے سگنلز کو وصول کرنا، ان کی طاقت بڑھانا اور دوبارہ کسی دوسرے علاقے تک بھیجنا ہے، تاکہ دور دراز مقامات کے درمیان رابطہ ممکن ہو سکے۔
