پاکستان

منی لانڈرنگ کیس میں ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی عبوری ضمانت دوبارہ فعال

اسلام آباد ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں سوشل میڈیا پر مقبول ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی عبوری ضمانت بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد اعظم خان نے منگل کو ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی عبوری ضمانت بحال کر کے انھیں ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گذشتہ ہفتے اسلام آباد کے سپیشل جج سینٹرل کی عدالت سے ملزمہ کی ضمانت قبلِ از گرفتاری میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی اور اس کے بعد ایف آئی اے نے ان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی تھیں۔

ٹرائل کورٹ کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد ہونے اور وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف ڈاکٹر فضیلہ عباسی اپنے وکیل نعیم بخاری کے ہمراہ منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئیں

نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی موکلہ تین مرتبہ عدالت کے سامنے پیش ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمہ ایک مرتبہ پیش نہ ہوئیں اور ٹرائل کورٹ میں تین دن کا میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع کرایا تو ضمانت خارج کر دی گئی۔

عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد ملزمہ کی عبوری ضمانت کو بحال کردیا ہے اور انھیں ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے چند دن قبل ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ اور 2.5 ارب روپے کے لین دین کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کی تھی۔

بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس خادم حسین کی عدالت میں فضیلہ عباسی کی جانب سے دائر کی گئیں تین درخواستوں پر فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *