اہم خبر

ہسپتال میں غفلت بے نقاب، تونسہ میں سرنجوں کے بار بار استعمال کا انکشاف

محمد امین آٹھ سال کے تھے جب ایچ آئی وی کی تشخیص کے تھوڑے ہی عرصے بعد اُن کی وفات ہوئی۔

امین کی والدہ صغریٰ بتاتی ہیں کہ ’اسے اتنا شدید بخار ہونے لگا تھا کہ وہ باہر بارش میں سونے کی ضد کرتا، اور درد سے ایسے چلاتا جیسے اسے گرم تیل میں پھینک دیا گیا ہو۔‘

اپنے چھوٹے بھائی محمد امین کی قبر پر جُھکتے ہوئے اُن کی 10 سالہ بہن عاصمہ نے کہا کہ ’وہ مجھ سے لڑتا تھا، لیکن وہ مجھ سے پیار بھی کرتا تھا۔‘

امین میں اِس مرض کی تشخیص ہو جانے کے کچھ ہی عرصہ بعد عاصمہ کا بھی ایچ آئی وی ٹیسٹ پازیٹیو نکل آیا۔

عاصمہ کے خاندان کا ماننا ہے کہ انھیں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تونسہ شہر کے سرکاری ہسپتال میں عام طبی معائنے کے دوران استعمال شدہ ٹیکوں سے انجیکشن لگنے کی وجہ سے یہ مرض (ایچ آئی وی) لاحق ہوا۔

تحقیق کے مطابق یہ دونوں بچے نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان تونسہ میں ایچ آئی وی پازیٹیو ہونے والے 331 بچوں میں شامل ہیں۔

سنہ 2024 کے اواخر میں جب ایک نجی کلینک کے ڈاکٹر نے تونسہ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے جوڑا تو مقامی حکام نے سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے مارچ 2025 میں ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ کو معطل کر دیا۔ لیکن بی بی سی آئی کی حالیہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی ماہ بعد بھی استعمال شدہ انجیکشن لگائے جانے کا خطرناک رجحان جاری ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *