بلوچستان

کوئٹہ واقعہ: ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ، بچوں کی کفالت پر سوالیہ نشان

حفاظت کے پیش نظر اس رپورٹ میں چند افراد کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔

احمد اور ابراہیم کی عمریں دیکھیں تو یہ اُن کے کھیلنے کودنے کے دن ہیں مگر اپنے اپنے گھر کا بڑا بیٹا ہونے اور اپنے والدین کی ٹارگٹڈ کلنگ کے ایک حالیہ واقعے میں ہلاکت نے پورے گھروں کی ذمہ داری اُن کی کندھوں پر ڈال دی ہے۔

یہ کہانی ہے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے احمد اور ابراہیم کی ہے۔ ہزار گنجی کے علاقے میں پیش آئے ایک حالیہ واقعے میں ان دونوں کے والد زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔

اپنے رشتہ داروں کی موجودگی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے یہ دونوں بچے غم سے نڈھال نظر آئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے نہ صرف ان کے خاندانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ مستقبل کے حوالے سے ان کے خوابوں کو بھی چکنا چور کر دیا ہے۔

بلوچستان کے سرکاری حکام نے اس واقعے کو ’ٹارگٹڈ کلنگ‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اس واقعے کے خلاف ہزارہ برادری کے لوگوں نے احتجاج کیا لیکن ماضی کی نسبت انھوں نے اپنے اس احتجاج کو زیادہ طول نہیں دیا اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ کی یقین دہانی پر چند گھنٹے بعد ہی احتجاج ختم کر دیا۔

ٹارگٹڈ کلنگ کے اس حالیہ واقعے نے ہزارہ قبیلے کے افراد کو ایک مرتبہ پھر تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں ہزارہ قبیلے پر متعدد اور بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے جن میں کافی جانوں کا نقصان ہوا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حالیہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *