بلوچستان

فلک ناز کی جرات مندانہ مزاحمت، مسلح افراد کے حملے میں شہید

’والدہ کی خواہش تھی کہ میں پڑھ لکھ کر وکیل بنوں لیکن اُن کی زندگی میں یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔‘

بلوچستان کے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والے سمیر بلوچ نے فون پر بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب اُن کے والد کو سنہ 2011 میں ٹارگٹڈ کلنگ (ہدف بنا کر قتل کرنا) کا نشانہ بنایا گیا تو اُس کے بعد سے اُن کی والدہ ملک ناز نے انھیں ماں اور باپ دونوں بن کر پالا۔

’جب والد کا قتل ہوا تو ہم بہن، بھائی بہت چھوٹے تھے۔ اور اب اس واقعے نے والدہ کو بھی ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھین لیا ہے۔‘

سمیر بلوچ کی والدہ ملک ناز خضدار پولیس میں کانسٹیبل تھیں جو گذشتہ اتوار کو نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر کیے گئے ایک حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔ اس واقعے میں ملک ناز کے علاوہ ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے تھے۔

بلوچستان کے متعلقہ سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ اِن پولیس اہلکاروں کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ انھوں نے اپنا اسلحہ مسلح افراد کے حوالے کرنے سے انکار کیا تھا۔

وزیر اعلیٰ کے معاون برائے میڈیا شاہد رند نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ملک ناز بلوچستان کی تاریخ میں پہلی خاتون پولیس اہلکار ہیں جنھوں نے دوران ڈیوٹی اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جان دی۔‘

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ملک ناز کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ان کے خاندان اور بچوں کو ہرممکن مدد کرے گی۔

ملک ناز کے بڑے بیٹے سمیر بلوچ کہتے ہیں کہ ’جب بچے کم عمری میں والد کے سائے سے محروم ہو جائیں تو اُن کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ہماری والدہ نے کبھی بھی ہمیں والد کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی۔‘

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *