پاکستان

طالبان کے ڈرون پاکستان کی فضاؤں میں! اینٹی ڈرون سسٹم نے بڑا خطرہ ٹال دیا

افغان طالبان کی عبوری حکومت نے پہلی مرتبہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ڈرونز استعمال کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ طالبان کی وزارتِ دفاع کے مطابق پاکستان کے تین شہروں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کے ذریعے فضائی حملے کیے گئے، جنہیں مبینہ طور پر پاکستانی فضائی کارروائیوں کا جواب قرار دیا گیا۔

طالبان کے پاس باقاعدہ فضائیہ نہ ہونے کے باعث حملوں کے لیے دھماکہ خیز خودکش ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز استعمال کیے گئے۔ یہ ایسے ڈرون ہوتے ہیں جو چار پروں کی مدد سے پرواز کرتے ہیں اور ہدف کے قریب پہنچ کر دھماکہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق 27 فروری کو سبی، ایبٹ آباد اور نوشہرہ کی سمت بنیادی نوعیت کے ڈرونز بھیجے گئے تھے، تاہم سکیورٹی اداروں کے اینٹی ڈرون سسٹمز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام ڈرونز کو مار گرایا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق کچھ ڈرونز نے نوشہرہ کے آرٹلری سکول اور صوابی میں ایک عمارت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، مگر سکیورٹی نظام کی بروقت کارروائی کے باعث انہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا۔

عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کے پاس ڈرونز کے مکمل پرزے خود تیار کرنے کی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے، اس لیے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ پرزے بیرونِ ملک سے حاصل کر کے افغانستان میں اسمبل کیے گئے ہوں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *