پاکستان

جوڈیشل کمیشن رپورٹ کے انتظار میں گل پلازہ سانحہ متاثرین

سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ جوڈیشل کمیشن نے کئی دن قبل اپنی رپورٹ حکومت سندھ کے حوالے کر دی ہے لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر اسے ابھی تک عوام کے لیے ظاہر نہیں کیا گیا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ رپورٹ میں گل پلازہ میں فائر سیفٹی کے انتظامات نہ ہونے کے علاوہ اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ گل پلازہ کی عمارت کے اطراف موجود تجاوزات، ایم اے جناح روڈ پر معمول کے ٹریفک جام اور عمارت کے سامنے طویل عرصے سے جاری گرین لائن منصوبے کے تعمیراتی کام کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور امدادی کارروائیاں متاثر ہوئیں۔

گل پلازہ کے نزدیک ترین کے ایم سی کا فائر اسٹیشن صدر میں صرف پانچ منٹ کے فاصلے پر واقع ہے لیکن گل پلازہ کے اطراف معمول کے ٹریفک جام، تجاوزات اور گرین لائن کے تعمیراتی کام کی وجہ سے پہلے فائر ٹینڈر کو بھی جائے وقوعہ پر پہنچنے میں کافی دیر لگی تھی۔

واضح رہے کہ سانحہ گل پلازہ 17 جنوری 2026 کو رونما ہوا جس میں درجنوں جانیں ضائع ہوئیں۔ حکومت سندھ نے ابتدائی طور پر کمشنر کراچی کو تحقیقات کے لیے منتخب کیا اور ان کی جانب سے ایک رسمی رپورٹ مرتب بھی کی گئی لیکن سیاسی اور سماجی حلقوں نے اسے مسترد کر دیا اور حکومت پر دباؤ ڈالا کہ اتنے بڑے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

سیاسی اور سماجی حلقوں کے دباؤ کے بعد حکومت سندھ نے 10 فروری کو سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس آغا فیصل پر مشتمل ایک جوڈیشل کمیشن قائم کیا۔ مذکورہ کمیشن نے اپنا کام مکمل کرکے 7 اپریل کو تفصیلی رپورٹ محکمہ قانون سندھ کے حوالے کی اور اسے عوام کے لیے ظاہر کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ صوبائی حکومت کی صوابدید پر چھوڑا۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت 9 اپریل کو اجلاس میں مذکورہ رپورٹ پر عمل درآمد کے لیے تین صوبائی وزراء پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی جس میں سید ناصر حسین شاہ، ضیاء الحسن لنجار اور جام اکرام اللہ دھاریجو شامل ہیں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *