پاکستان

افغان طالبان کے ہتھیار اور پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کی صلاحیت

پاکستان اور افغانستان میں جاری سرحدی کشیدگی میں افغان طالبان کی عسکری صلاحیت اور ان کے ہتھیاروں پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

طالبان کے ہتھیار اور صلاحیتیں:

ہینڈ ہیلڈ ہتھیار: رائفلز، اسلحہ خودکار اور دستی ہتھیار، جنہیں گوریلا وارفیئر میں استعمال کیا جاتا ہے۔

دھماکہ خیز مواد: خودکش حملوں اور چھوٹے بموں کے لیے استعمال ہونے والا مواد۔

ڈرونز: حالیہ جھڑپوں میں طالبان نے چھوٹے ڈرونز اور خودکش ڈرونز کے ذریعے فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے، اگرچہ ان کی طاقت محدود ہے۔

روایتی فوجی سازوسامان کا محدود ذخیرہ: طالبان کے پاس مکمل ٹینک یا جدید لڑاکا جہاز نہیں، لیکن انہوں نے قبضہ کیے گئے علاقوں میں آرٹلری اور دستی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

روایتی جنگ کی حدود:

طالبان کی تربیت اور تجربہ زیادہ تر گوریلا جنگ اور پارٹیزن آپریشنز پر مبنی ہے۔

ان کے پاس پاکستان کے خلاف براہِ راست روایتی جنگ کے لیے مکمل افواج یا جدید ٹیکنالوجی کی کمی ہے۔

سرحدی جھڑپوں میں طالبان کی کارروائیاں محدود ہتھیاروں اور چھوٹے گروہوں تک محدود رہیں، جبکہ پاکستان کی افواج نے فضائی اور زمینی جوابی کارروائیاں کر کے ان کے نقصانات کا دعویٰ کیا۔

حالیہ جھڑپوں کا پس منظر:

جمعرات کو طالبان نے پاکستانی چوکیوں پر حملوں کا دعویٰ کیا، جبکہ پاکستان نے ان کے دعووں کی تردید کی اور جواباً کارروائیاں کیں۔

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز کے جوابی حملوں میں طالبان کے 36 اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ پاکستان کے دو اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

21 فروری کو پاکستان نے افغانستان میں طالبان کے سات ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا، جس میں 80 سے زیادہ شدت پسند ہلاک ہوئے۔

نتیجہ:
افغان طالبان کے پاس گوریلا جنگ اور چھوٹے پیمانے پر فضائی یا زمینی حملے کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن پاکستان کے خلاف مکمل روایتی جنگ کے لیے ان کی فوجی صلاحیت محدود ہے۔ زیادہ تر جھڑپیں چھوٹے گروہوں اور سرحدی چوکیوں تک محدود رہتی ہیں، جبکہ پاکستان کے پاس جدید اور تربیت یافتہ افواج ہیں جو بڑے پیمانے پر آپریشن کر سکتی ہیں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *