اتوار کو قبرص میں برطانوی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کے بعد یورپی ممالک نے قبرص کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنے بحری اثاثے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اطالوی وزیر دفاع گوئیدو کروسیٹو نے کہا ہے کہ اٹلی قبرص کے تحفظ کے لیے اپنے ’بحری اثاثے‘ قبرص کی جانب روانہ کرے گا۔ تاہم سپین، فرانس اور نیدرلینڈز کی جانب سے بھی اس میں شامل ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کروسیٹو کے مطابق بحری اثاثوں کی تعیناتی آئندہ چند دنوں میں کر دی جائے گی۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ صدر نے اطالوی اور یونانی رہنماؤں سے بات کی ہے اور انھوں نے قبرص میں بحری اثاثے بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس سے پہلے بی بی سی نامہ نگار نیکوس پاپانیکولاؤ نے رپورٹ کیا تھا کہ ممکنہ خطرے کے پیش نظر قبرص میں سائرن بج اٹھے تھے۔
مقامی وقت کے مطابق ساڑھے 12 بجے کے قریب اکروٹیری میں سکیورٹی الرٹ جاری ہوا، جس کے بعد علاقے میں سائرن بجنے لگے اور قریبی رہائیشیوں کو انتباہی پیغامات بھیجے گئے۔
اس علاقے میں برطانیہ کا وہ فوجی اڈہ ہے جسے اتوار کے روز ڈرونز کی مدد سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
کوریون علاقے میں موجود لوگوں کو اپنے فون پر یہ پیغام موصول ہوا ’خطرہ ہے۔ مزید سرکاری ہدایات آنے تک اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ کھڑکیوں سے دور ہو جائیں اور فرنیچر کے نیچے پناہ لیں۔ برائے مہربانی مزید ہدایات کا انتظار کریں۔‘
یہ الارم تقریباً 10 منٹ تک بجتا رہا۔
قبرص حکومت کے ترجمان نے بعد میں بتایا کہ حکام نے ایک ممکنہ شے کے بارے میں موصول ہونے والی اطلاع کی تحقیقات کی تھیں، لیکن کوئی ایسا اشارہ نہیں ملا کہ وہ برطانوی اڈوں کی طرف بڑھ رہی تھی۔
برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی قبرص کے دورے پر ہیں۔ انھوں نے اپنے ہم منصب سے ملاقات کی ایک تصویر بھی شیئر کی ہے۔
