’ستلج کی ہوا،
جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں سے گزر کر آتی ہے،
اور اُن سب کی یاد دلاتی ہے،
جو اس مٹی کے لیے لڑے اور مٹ گئے۔‘
انقلابی شاعر لال سنگھ دل کی مشہور پنجابی نظم ’ستلج کی ہوا‘ کے اس حصے کا ترجمہ بتاتا ہے کہ صرف ایک سٹریمنگ پلیٹ فارم سے ہٹائی گئی فلم ہی اس دریا کی طرف توجہ نہیں دلاتی، بلکہ اس سے پہلے بھی یہ دریا لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتا رہا ہے۔
