کاروبار

پیٹرول ڈیلرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع میں اضافے کی منظوری مؤخر، کابینہ نے ڈیجیٹائزیشن سے مشروط کر دیا

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے پیٹرول ڈیلرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے منافع میں اضافے کی منظوری فی الحال روک دی ہے اور اسے پٹرولیم سیکٹر میں مکمل ڈیجیٹائزیشن سے مشروط کر دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اس فیصلے پر عملدرآمد مؤخر کر دیا گیا جس کے تحت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 2.56 روپے فی لیٹر اضافے کی اجازت دی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈیلرز اور او ایم سیز کے مارجن میں اضافہ اُس وقت تک نافذ نہیں ہوگا جب تک پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت نہ لایا جائے۔ اس نظام کے ذریعے درآمد، ذخیرہ، نقل و حمل اور فروخت کے تمام مراحل کی نگرانی ممکن ہو سکے گی۔

یاد رہے کہ ای سی سی نے اس سے قبل او ایم سیز کے لیے 1.22 روپے فی لیٹر اور پیٹرول ڈیلرز کے لیے 1.34 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دی تھی، جسے دو مرحلوں میں نافذ کیا جانا تھا۔ تاہم اب حکومت نے اس اضافے کو ڈیجیٹائزیشن کی پیش رفت سے مشروط کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق پٹرولیم سیکٹر کی ڈیجیٹل ٹریکنگ کا مقصد اسمگلنگ اور ملاوٹ کو روکنا اور سرکاری ریونیو میں ہونے والے اربوں روپے کے نقصان کو کم کرنا ہے۔ حکومت کو توقع ہے کہ اس نظام کے مکمل نفاذ کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور فروخت کا شفاف نظام قائم کیا جا سکے گا۔

اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کے لیے اخباری انداز میں زیادہ طاقتور (Front Page) سرخی بھی بنا سکتا ہوں جو قاری کی توجہ فوراً حاصل کرے

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *