حکومت نے گیس سیکٹر میں تین ہزار ارب روپے سے زائد کے گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے گیس کی قیمتیں بڑھانے کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی بڑھانے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق یکم جنوری سے گیس کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ لیٹ پیمنٹ سرچارج سمیت تین ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
اجلاس کے دوران پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر اضافی پیٹرولیم لیوی عائد کرنے کی تجویز پر بھی سوال اٹھائے گئے، تاہم وزیر پیٹرولیم نے اس امکان کی واضح تردید نہیں کی اور کہا کہ اس معاملے پر کمیٹی کو علیحدہ بریفنگ دی جا سکتی ہے۔
حکام کے مطابق ملک میں گیس صارفین کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کا استعمال تقریباً پوری آبادی کرتی ہے۔ اس وقت حکومت پیٹرولیم لیوی کو بڑھا کر تقریباً 82 روپے فی لیٹر تک لے جا چکی ہے جسے بجلی صارفین کو سبسڈی، بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری آمدن کے بڑے ذریعے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
ادھر اوگرا نے مالی سال 2025-26 کے لیے گیس کمپنیوں کی آمدنی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے گیس کی قیمتوں میں سات فیصد تک اضافے کی سفارش کی تھی، تاہم حکومت نے آئندہ چھ ماہ تک گیس نرخ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق حکومت گیس چوری اور نقصانات کم کرنے کے لیے اصلاحات کر رہی ہے جبکہ قطر کے ساتھ مذاکرات کے بعد اضافی ایل این جی کارگو کو عالمی منڈی میں فروخت کرنے کا طریقہ کار بھی طے پا گیا ہے۔
اجلاس میں سوئی گیس کمپنیوں نے بھی اپنے آپریشنل نتائج پیش کیے۔ ایس این جی پی ایل کے مطابق کمپنی نے گیس نقصانات کو نو فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد تک لانے میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ایس ایس جی سی کے نقصانات 17 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد رہ گئے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ گیس چوری کی روک تھام کے لیے ملک بھر میں ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کا نظام نافذ کیا جا رہا ہے جس سے گیس کی ترسیل اور دباؤ کی نگرانی بہتر ہو سکے گی۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کے لیے زیادہ مختصر، اخباری انداز کی 5 طاقتور سرخیاں بھی بنا سکتا ہوں جو نیوز پوسٹ یا سوشل میڈیا کے لیے بہتر ہوتی ہیں۔
