امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران کا نیا رہنما بھی وہی منتخب کریں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی دیگر مذہبی و عسکری شخصیات کو قتل کر دیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مطالبہ ایران کے مذہبی نظام کے لیے ناقابلِ تصور ہے، کیونکہ اس نظام کی بنیاد امریکہ پر گہری عدم اعتماد اور دشمنی پر قائم ہے۔
ایران میں اصلاح پسند، عملیت پسند اور سخت گیر عناصر موجود ہیں، لیکن ان سب کا مشترکہ مقصد نظام کو برقرار رکھنا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ مجلسِ خبرگان، جو تقریباً 88 سیینئر علما پر مشتمل ادارہ ہے، اس نازک وقت میں ایک فرد کے بجائے رہنماؤں کی کونسل منتخب کرنے پر غور کر رہا ہے۔
اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ جو بھی نیا رہنما سامنے آئے گا، وہ اس کا ’براہِ راست ہدف‘ ہوگا۔
فی الحال اس حساس معاملے پر کھل کر بات کرنے والے واحد شخص صدر ٹرمپ ہیں، جنھوں نے کہا کہ ’زیادہ تر وہ لوگ جنھیں ہم نے ذہن میں رکھا تھا، اب مر چکے ہیں۔‘
