انٹرنیشنل

عمر فاروق ظہور کے خلاف ناروے میں 16 سال بعد مبینہ فراڈ کا مقدمہ ختم

اوسلو، لندن (مجتبیٰ علی شاہ ) ناروے حکام نے عمر فاروق ظہور کو کلین چٹ دے دی، پراسیکیوشن اتھارٹی نے قرار دیا ہے کہ بے ضابطگی ثابت کرنے کیلئے ثبوت موجود نہیں،اس فیصلے سے ایک ایسا مقدمہ اختتام کو پہنچا جو برسوں سے خبروں کی زینت بنا ہوا تھا، استغاثہ نے حکام کو عمر فاروق ظہور کے خلاف تمام وارنٹس واپس لینے اور مطلوب افراد کی فہرست سے نام نکالنے کی ہدایت بھی جاری کردی ۔
تفصیل کے مطابق عمر فاروق ظہور نے ناروے کے سینئیر پراسیکیوٹر کارل گراف ہارٹمین کے خلاف مقدمہ بھی قائم کیا تھا جس میں موقف اپنایا تھا کہ سینئیر پراسیکیوٹر نے دائیں بازو کے اخبار کے ساتھ مل کر انھیں جھوٹے الزامات کا نشانہ بنایا، عمر فاروق ظہور 2010 میں نورڈیا بینک کے خلاف کئی ملین کرونر کے مبینہ فراڈ میں مطلوب تھے، تاہم انھوں نے ہمیشہ الزامات کی تردید کی۔ عمر فاروق ظہور کا موقف تھا کہ فراڈ 2010 میں ہوا جبکہ وہ 2005 کے بعد ناروے گئے ہی نہیں ۔
ناروے نے اس کیس میں متحدہ عرب امارات سے عمر فاروق ظہور کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا لیکن اماراتی حکومت نے ثبوتوں کی کمی کے سبب درخواست مسترد کردی تھی ، عدالتی دستاویز کے مطابق 2010 میں کیس کی تحقیقات شروع ہونے کے بعد عمر فاروق ظہور نے وکلا کے ذریعے تعاون کیا تھا ،عمر فاروق ظہور کی طرف سے مسٹر ہارٹمین کے خلاف ہتک عزت کی کارروائی شروع ہونے کے بعد حکام نے کیس کا دوبارہ جائزہ لیا
چیف پراسیکیوٹر نے فائل موصول ہونے کے ایک ہفتہ اندر ہی کیس ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ، اوسلو پولیس کی جانب سے کلئیر نس لیٹر اور ایف آئی اے کی رپورٹ کی بنیاد پر مئی 2023 میں عمر فاروق کو دو فراڈ اور ایک منی لانڈرنگ کے کیس سے بھی بری کردیا گیا تھا ۔یہ مقدمات 2020 میں عمر فاروق ظہور کی سابقہ اہلیہ کی شکایات پر پی ٹی آئی کے دور میں درج کئے گئے تھے ۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *