پاکستانکاروبار

ایران امریکہ جنگ سے پہلے ہی وفاقی حکومت کے ایندھن کے سالانہ بجٹ اخراجات میں 39 فیصد اضافہ،22 ارب روپے تک پہنچ گئے تھے، تفصیل قومی اسمبلی میں پیش

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت کی جانب سے اعلیٰ بیوروکریٹس کے لیے کار مونیٹائزیشن پالیسی نافذ کرنے کے باوجود جس کے تحت انہیں ٹرانسپورٹ کی مد میں نقد رقم دی جاتی ہے،مشرق وسطیٰ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی وفاقی حکومت کے ایندھن کے سالانہ بجٹ اخراجات بڑھ کر تقریباً 22ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، جو کہ39 فیصد اضافہ ہے۔ یہ تفصیلات رواں ہفتے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں پیش کی ہیں۔
ایکسپریس ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے مالی سال 25-2024 میں ایندھن پر 8.21 ارب روپے خرچ کیے، جو کہ 1.6 ارب روپے یعنی 39فیصد کا اضافہ ہے۔ تاہم، حکومت نے حال ہی میں ختم ہونے والے مالی سال 2025۔26کے ایندھن کے اخراجات ظاہر نہیں کیے، جس کے دوران جنگ چھڑنے کے باعث مقامی اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا۔
رکن قومی اسمبلی سید رفیع اللہ نے تمام سرکاری وزارتوں، ڈویژنوں، منسلک شعبوں اور خودمختار اداروں کے گزشتہ پانچ سال کے ایندھن کے تخمینے اور سالانہ اخراجات کی تفصیلات طلب کی تھیں، جس پر حکومت نے وفاقی بجٹ سے ہونے والے اخراجات کی معلومات تو فراہم کر دیں لیکن مالی سال 26 کے اعداد و شمار پیش نہیں کیے۔
رپورٹ کے مطابق متعدد وفاقی وزراء، وزرائے مملکت اور وفاقی سیکرٹریز اپنی استحقاق سے بڑی گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں، جہاں اکثریت وزراء ایس یو ویز (SUVs) کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ وفاقی سیکرٹریز 1800 سی سی کی نئی گاڑیوں کو فوقیت دیتے ہیں۔ حکومت نے 15سال قبل گریڈ20 سے 22کے افسران کے لیے کار مونیٹائزیشن پالیسی متعارف کرائی تھی اور بعد میں انہیں سرکاری گاڑیاں صرف دفتری کام کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن اس پالیسی کی کھلی خلاف ورزی دیکھی جا رہی ہے اور سرکاری گاڑیاں بیوروکریٹس کے بچوں کو اسکولوں، مارکیٹوں اور موٹروے پر لانے لے جانے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔وزیرِ خزانہ اورنگزیب نے بتایا کہ مالی سال ۲۱ سے مالی سال ۲۵ تک ایندھن پر کل69 ارب روپے خرچ ہوئے، جن میں سے 16ارب روپے پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں اور باقی زیادہ تر شہباز شریف حکومت کے دوران خرچ ہوئے، جبکہ اگست سے فروری 2022.23 کے درمیان نگران حکومت کا دور بھی شامل تھا۔ مالی سال 25کے دوران ن لیگ کی قیادت میں قائم اتحادی حکومت نے ایندھن کے لیے 16 ارب روپے مختص کیے تھے لیکن ۲۱.۸ ارب روپے خرچ کیے، جو اصل تخصیص سے6 ارب روپے زیادہ ہیں۔ اسی طرح مالی سال 23 میں ایندھن کا اصل بجٹ ۹ ارب روپے تھا لیکن اتحادی حکومت نے15.7 ارب روپے خرچ کیے جو73 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ نے بھی گزشتہ مالی سال میں خصوصاً ایندھن کی مد میں بچت کے حوالے سے سوالات اٹھائے، جس پر وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ مالی سال ۲۶ کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی مد میں ۲.۱ ارب روپے کی بچت ہوئی۔ وزیرِ خزانہ نے مزید بتایا کہ ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن پالیسی دسمبر ۲۰۱۱ میں متعارف کرائی گئی تھی تاکہ بی ایس ۲۰، ۲۱ اور ۲۲ کے افسران کو سرکاری گاڑیوں کی بجائے ماہانہ مقررہ نقد الاؤنس دیا جا سکے، جس کا مقصد گاڑیوں کی خرید، دیکھ بھال، پٹرول، آئل اور ڈرائیوروں کے اخراجات کم کرنا اور نا جائز استعمال کو روک کر شفافیت لانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی سیکرٹریز کو اس پالیسی پر عملدرآمد کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور انہیں ہر مستحق افسر سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنے عہدے کی حیثیت سے کسی بھی پروجیکٹ یا آپریشنل گاڑی کا استعمال نہیں کر رہے، جبکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے باقاعدگی سے سالانہ آڈٹ بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم، اورنگزیب نے تحریری طور پر اعتراف کیا کہ وفاقی حکومت کی ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن پالیسی پر مخصوص طور پر کوئی آڈٹ انجام نہیں دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس پالیسی کا جائزہ ۲۰۱۹ میں اس وقت کے وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات و اورسیٹی ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں قائم سیل نے لیا تھا اور کابینہ کی منظوری سے گاڑیوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے دو مزید پیراگراف شامل کیے گئے تھے، تاہم کابینہ ڈویژن کی طرف سے مزید کوئی اصلاحی اقدامات جاری نہیں کیے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کابینہ ڈویژن خود وفاقی وزراء کو ان کے استحقاق سے زائد گاڑیاں فراہم کرتا ہے۔

ایک طرف جہاں حکومت ایندھن پر بھاری رقم خرچ کر رہی ہے، وہیں صارفین سے اس پر بھاری ٹیکس بھی وصول کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی کو بتایا کہ ۲۰ اگست سے ڈیزل پر لیوی کی شرح دوبارہ بڑھا کر ۸۰ روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی منڈی کی غیر معمولی صورتحال کے دوران صارفین کو ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم لیوی کی شرح کم کی گئی تھی جسے اب منظور شدہ بجٹی ہدف کے مطابق مرحلہ وار بحال کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی بجٹ ۲۷-۲۰۲۶ میں پٹرول اور ڈیزل پر ۸۰ روپے فی لیٹر کی اوسط لیوی کی بنیاد پر ۱.۶۸ ٹریلین روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پٹرولیم ڈویژن نے مخصوص صارف گروہوں پر اس کے اثرات کا کوئی علیحدہ جائزہ نہیں لیا کیونکہ پٹرولیم لیوی کے اہداف منظور شدہ وفاقی بجٹ کا حصہ ہیں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مالیاتی معاہدوں سے منسلک ہیں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *