اسلام آباد : وزیر ادخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائکورٹ کا تفصیلی فیصلہ آچکا ، اب وفاقی دارلحکومت پر دھاوا نہیں بولا جا سکتا ۔ کسی نے ایسا کیا تو تو ئین عدالت کارروائی کی طرف جائیں گے ۔ کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے ایک طرف گولی چلے اور دوسری طرف خاموشی ہو ایسا ہر گز نہیں ہو گا ۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عدلیہ کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا اور اس ضمن میں تمام سیکیورٹی اور متعلقہ اداروں کو سخت اور واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے دوٹوک مو¿قف اپنایا کہ احتجاج کرنا ہر سیاسی جماعت اور شہری کا آئینی حق ہے، لیکن اس حق کے نام پر عام شہریوں کے راستے بند کرنا یا انہیں مشکلات میں ڈالنا قطعی طور پر قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت میں کسی بھی جگہ ٹریفک معطل کرنے یا لوگوں کو روکنے والوں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔وزیرِ داخلہ نے خبردار کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قانون کا سامنا کرنا ہوگا، انتظامیہ دارالحکومت میں امن و امان کی بحالی اور شہریوں کی بلا تعطل نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حتجاج سب کا حق ہے لیکن ایسی کوئی صورت نہیں بنتی کہ دارلحکومت یا کسی دوسرے صوبے پر دھاوا بول دیا جائے ۔ انہوں نے کہا ہم نے سیکیورٹی اداروں کو واضح ہدایات دے دی ہیں کہ کوئی بھی عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوے کوئی بھی نکلنے کی کوشش کرتا ہے ۔ تو ہر ممکن طریقے سے اسے روکا جائے ۔احتجاج اور دھرنوں سے ہم پہلے ہی بہت نقصانات اٹھا چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی کوئی صورتحال اب برداشت نہیں ہو گی کہ آپ گولی چلائیں اور دوسری طرف خاموشی رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج کرنا ہے تو اپنے علاقے اور شہر میں کریں ۔ دارلحکومت یا صوبے پر دھاو ے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ انہوں نے کہا آج کوہاٹ میں دہشتگردی کا بدترین واقعہ ہوا ۔ ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہر روز جنازے اٹھا رہے ہیں اور یہ احتجاج کی تیاریوں میں مصروف رہتے ہیں انکا نوے فیصد دھیان بندے اکٹھے کرنے یا چندہ اکٹھا کرنے پر ہوتا ہے ۔ انکو زیب نہیں دیتا ایک طرف جنازے اٹھائے جا رہے ہوں اور یہ دوسری طرف دھرنوں میں مصروف رئیں ۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ کے وزیراعلی اور انکی کابینہ کو چاہیے کہ وہ دہشتگر دی کے خاتمے کے لئے محنت کرے ۔ انہوں نے کہا کہ بڑے واضح الفاظ میں سب کچھ بتا دیا ہے اب کسی کو غلط فہمی نہ نہیں رہنی چا ہیے اور نہ ہی بعد میں کوئی شکوہ کرے ۔ جان و مال کا تحفظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ سیاسی جتھوں اور جلوسوں میں فرق ہوتا ہے ۔ سیاسی جتھے اگر مسلح ہو جائیں تو وہ سیا سی نہیں رہتے ۔ انہوں نے کہا ایک بھی جان جاتی ہے تو اس کے ذمہ دار اس جتھے کو آرگنائز کرنے والے ہوں گے ۔ اپوزیشن میں کافی سمجھدار لیڈر موجود ہیں ، استدعا ہے کہ لڑائی جھگڑے سے کوئی فائدہ نہیں امید ہے وہ کورٹ کے فیصلے کو غور سے پڑھیں گے اور کسی بھی غلط اقدام سے گریز کریں گے ۔ انہوں نے کہا مسائل مذاکرات سے حل ہوتے ہیں ۔ لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مسلح جتھے یہ کام کریں گے تو پھر شوق سے آئیں ہم بھی پوری طرح تیار بیٹھے ہیں ۔
اہم خبرپاکستان
اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، محسن نقوی
