اسلام آباد : ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کی کوششوں کے سلسلے میں قومی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کے اہم اجلاس میں ملک گیر پولیو مہم کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کردیا گیا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ گزشتہ سال 30 سے کم پولیو کیسز کے مقابلے میں رواں سال کیسز کی تعداد 4 رہ گئی ہے، تاہم ایک بچے کا پولیو کا شکار ہونا بھی وائرس کے پھیلاو¿ کا سبب بن سکتا ہے۔ تقریب میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، پولیو پروگرام کی فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق اور نجی شعبے کے نمائندگان نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ جب کوئی بچہ پولیو کا شکار ہوتا ہے تو اس کی پوری زندگی کے خواب متاثر ہوجاتے ہیں، اس لیے والدین انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اور پولیو ورکرز کی گھر پر آمد کو نظرانداز نہ کریں۔ وفاقی وزیر نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاو¿ کے قطرے ضرور پلوائیں اور مہم کے دوران پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ احسن اقبال نے بتایا کہ حکومت یونیورسٹیوں کے 10 لاکھ نوجوانوں کو صحت اور معاشرتی آگاہی مہمات کے لیے متحرک کررہی ہے، تاکہ عوام میں صحت سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے ساتھ قومی سطح کی آگاہی مہمات کو مزید مو¿ثر بنایا جاسکے۔ انہوں نے پولیو کے خاتمے کے لیے نجی شعبے، صوبائی حکومتوں اور پولیو ورکرز کی خدمات کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ احسن اقبال نے کہا کہ پولیو کیسز میں نمایاں کمی حوصلہ افزا ہے، تاہم وائرس کے مکمل خاتمے تک انسدادِ پولیو کی کوششیں جاری رکھنا ضروری ہیں۔ انہوں نے والدین، سول سوسائٹی اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ قومی انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھیں
اہم خبرپاکستان
ملک گیر انسدادِ پولیو مہم کا آغاز، رواں سال کیسز 4 رہ گئے: احسن اقبال
