اسلام آباد: اسلامی یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ کی لاش ملنے کے معاملے میں مزید تلخ انکشافات سامنے آگئے۔اہلخانہ کے مطابق طالبہ لائبہ اعجاز نے اسلامی یونیورسٹی سے فزکس میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی تھی اور وہ ہارورڈ یونیورسٹی سے فزکس میں ایم ایس کرکے سائنسدان بننے کی خواہش رکھتی تھی۔اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ایک مبینہ فراڈ کنسلٹنٹ نے طالبہ کو ہارورڈ یونیورسٹی میں اسکالرشپ پر داخلہ دلوانے کا جھانسہ دیا اور اسکالرشپ کا جعلی خط بھی فراہم کیا، جس کی نقل ایکسپریس نیوز نے حاصل کرلی، مذکورہ کنسلٹنٹ نے رقم حاصل کرنے کے لیے خود کو طالبہ کا کفیل بھی ظاہر کیا۔خاندان کا کہنا ہے کہ کنسلٹنٹ نے طالبہ کے بھائی کو سرکاری ملازمت دلوانے کا وعدہ بھی کیا اور اس مقصد کے لیے الگ سے 5 لاکھ روپے وصول کیے، اہلخانہ کے مطابق ملزم خود کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اکا¶نٹس افسر بھی ظاہر کرتا رہا۔اہلخانہ نے بتایا کہ طالبہ کے بھائی نے والد سے کاروبار کے لیے رقم مانگی تھی تاہم والد نے بیٹی کی تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسے پڑھائیں گے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد تھانہ رمنا کی حدود میں واقع ایک درخت سے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی ایک طالبہ کی لٹکی ہوئی لاش ملی تھی جس کی شناخت لائبہ اعجاز دختر محمد اعجاز کے نام سے ہوئی، مقتولہ کی عمر 22 سال اور غیر شادی شدہ تھی، طالبہ اسلام آباد G-10 مرکز کے گلستان پلازہ، فلیٹ نمبر 8 کی رہائشی تھی
اہم خبرپاکستان
اسلامی یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ کی لاش ملنے کے معاملے میں مزید تلخ انکشافات
