اہم خبرپاکستان

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے آئینی اقدامات ناگزیر تھے,وفاقی وزرا

اسلام آباد:وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کو آئین میں دئیے گئے اختیارات کے تحت ہٹایا گیا ہے جس کا اختیار آئین دیتا ہے ۔صوبے سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے صوبائی حکومت کے عدم تعاو¿ن سے حالات بہت خراب ہورہے تھے ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ صوبائی حکومت کو آن بورڈ لیا جائے مگر ان کی جانب سے تعاون نہیں کیا جارہا تھا ۔اتوار کو مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہاکہ ایک ماہ سے کوشش تھی کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے خیبر پختونخوا کی حکومت کو آن بورڈ لیا جائے تاکہ سب مل کر یہ لڑائی لڑ سکیں ۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کیلئے جو مطالبات کئے تھے وہ سب کے سب ہورہی تھی اور ان کے اپنے لوگوں کو بھی یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ لانگ مارچ کیوں ہورہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ 17ستمبر کو وزیر اعظم نے نیوریارک جانا تھا اور انہوں نے جانے سے قبل سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈران سے ملاقات کا فیصلہ کیا گیا مگر ہمیں ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا اور اس کے بعد بھی مسلسل ان سے رابطہ رہا اور ہم نے دو روز تک ان کے ساتھ مذاکرات کئے ۔انہوں نے کہاکہ پہلے دن جو گفتگو ہوئی تھی وہ سب کے سامنے تھی اور انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف مکمل سپورٹ کی تھی ۔انہوں نے کہاکہ میں نے خیبر پختونخوا کی حکومت کو بھی آن بورڈ لینے کی درخواست کی تاہم اگلے دن چار مرتبہ ڈرافٹ فائنل ہوا اور چوتھی دفعہ انہوں نے تبدیلی کا مطالبہ کیامگر اخر میں ایک نیا ڈرافٹ آگیا ۔انہوں نے کہاکہ کل رات تک پی ٹی آئی کے رہناﺅں سے رابطہ رہا مگر ان کی جانب سے ایک پیرا میں تجاویز کے حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن کی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی رہنماﺅں سے ملاقات ہوئی اور اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں دھرنوں سے کوئی مسئلہ نہیں تھا ہمارا مطالبہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے صوبائی حکومت کی مدد تھی ۔انہوں نے کہاکہ بات چیت میں ہر بار ہم نے رابطہ کیا اور اس سے پہلے بھی ہم رابطے تھے ۔انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ دھرنے کو موخر کریں ۔انہوں نے کہاکہ صوبے کے حالات سب کے سامنے ہیں 12اضلاع میں صورتحال بہت خراب ہے کچھ اضلاع میں شام کے بعد کوئی بھی نہیں نکل سکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ان صوبوں میں پولیس کی ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے اور ہر دن ایک واقعہ ہوتا اور اس پر بھی ہم نے ایک پیج پر آنے کی کوشش کی ۔انہوںنے کہاک وزیر اعلی کے ساتھ تمام ملاقاتوںکا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ تھا اور یہ منصوبہ تھا کہ پہلے پانچ اضلاع میں پولیس کو مضبوط کریں انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے معاملے پر صوبائی حکومت کے ساتھ ایک پیچ پر اآنے کی بہت کوشش کی اور وزیر اعلی کو اس معاملے پر آن بورڈ لینے کی بہت کوشش کی ۔انہوںنے کہاکہ وزیر اعلی کو اگاہ کیا کہ چھ ماہ میں سات اضلاع میں ایمرجنسی کا نفاذ کرکے وہاں پر دہشت گردی کے خلاف اقدامات اٹھائے جائیں جس پر انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں ۔انہوں نے کہاکہ 12اضلاع پر انہوں نے ہمارے ساتھ رضامندی کا اظہار کیا مگر بعد میں مکر گئے ۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کے ساتھ کئی بار ملاقاتیں ہوئی اور ہم نے کبھی بھی اس کو سیاسی نہیں بنایا ۔انہوں نے کہاکہ ایک ہی ملک میں دہشت گردی کے خلاف دو بیانئے نہیں چل سکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ طالبان کے ساتھ ان کے روابط کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے اوپر ہمارا صرف ایک ہی نکتہ نظر ہے کہ فوجی جوان اور سیکورٹی فورسز والے شہادتیں دیں اور صوبائی حکومت اس کو اون بھی نہ کریں ۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کس کے خلاف جنگ کسی بھی صورت میں اکیلے نہیںلڑی جاسکتی ہے اس کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا اور اسی وجہ سے یہ مشکل فیصلہ کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے ہر حد تک کوشش کی ہے کہ صوبائی حکومت کو اس میں شامل کیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ ڈیڈھ سالوں میں 818پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہم صوبائی حکومت کو صرف دہشت گردی کے معاملے پر شامل کرنے کی کوشش کر رہے تھے اگر اس دن دستخط ہوجاتے تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی ۔انہوں نے کہاکہ ایک بار ہمارے ساتھ مان جاتے اور بعد میں مکر جاتے ۔اس موقع پر وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ صدر مملک کو ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج سے پہلے پورے مسئلے پربہت زیادہ بحث کی گئی جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا اور آرٹیکل 234کے تحت یہ اقدام اٹھایا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے صوبے کے عوام کو پس پشت ڈال دیا تھا اور گذشتہ دو سے ڈھائی سالوں میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے واقعات میں 196فیصد اضافہ ہوا ہے اور شہادتوں ،زخمیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان کا ساتھ نہیں دیا اور اس جلتی ہوئی آگ کا حل تلاش کرنے کیلئے صدر مملکت نے آئین کے تحت یہ اقدام اٹھایا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ آئین میں ایک طریقہ کار موجود ہے اور جس دن حکومت کو یہ لگے گا کہ اس اختیار کو استعمال کیا جائے اور حکومت نے ہر حد تک کوشش کی کہ یہ اقدام نہ اٹھایا جائے اور کل بھی ایک کوشش کی گئی مگر اس کے باوجود بھی صورتحال وہی تھی اور صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 232اور آرٹیکل 234کا نفاذ صوبے میں کردیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پہلی دفعہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں پہلے نمبر پر اآگیا ہے اور ان حالات کو کون یہاں پر سرمایہ کاری کیلئے آئے گا ۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کو غیر فعال کردیا گیا ہے اور گورنر کو وفاق نے صوبائی حکومت کے اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے ۔گورنر 11رکنی مشاورتی کونسل بنائی جائے گی انہوں نے کہاکہ 12اضلاع میں گورنر اور چیف سیکرٹری کے نیچے ایک سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا اس مقصد کیلئے ایک کونسل قائم کی گئی ہے جو تمام معاملات سنبھالے گی اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعلی ،صوبائی وزرا ،مشیران اور معاونین خصوصی سمیت سب کو غیر فعال کردیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ آرٹیکل 245کے تحت صوبائی حکومت کو افواج پاکستان کو ان کی معاونت کیلئے تعینات کیا گیا ہے اور وفاقی حکومت صوبائی حکومت کی مشاورت سے احکامات جاری کرے گی ۔انہوں نے کہاکہ اس کی منظوری سینیٹ اور قومی اسمبلی سے اگلے 10روز میں لی جائے گی اور تمام معاملات پارلیمان کے سامنے رکھیں جائیں گے ۔وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہاکہ کابینہ کے تمام اراکین کی رائے تھی کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت مکمل طور پر دہشت گردوں کی پشت پناہ ہے اور جو رپورٹس پیش کی گئی وہ اس حد تک خوفناک ہیں کہ تمام سیاسی جماعتوں پر دہشت گرد حملے ہوتے تھے مگر پی ٹی آئی کو کچھ نہیں کہا جاتا تھا ۔انہوں نے کہاکہ طالبان کو تھانے تک حوالے کر دئیے گئے تھے اور آئینی ذمہ داری نہیں نبھائی گئی ۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں اور صوبائی حکومت کے مابین پاﺅر شیئر نگ فارمولا طے ہوگیا تھا اور آہستہ آہستہ پورے صوبے میں دہشت گردوں کو پھیلایا جارہا تھا ۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے دہشت گردوں کو شراکت داربنایا تھا ۔انہوں نے کہاکہ یہ طالبان بیرون ممالک سے فنڈنگ لیکر ہمارے لوگوں کو شہید کرتے تھے اور ایک صوبائی حکومت ان کو سہولیات فراہم کر رہی تھی ۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کو پولیس فورس میں بھرتی کرنا چاہتے تھے اور آہستہ آہستہ پورے صوبے کو دہشت گردوں کے حوالے سے کرنے کی سازش کر رہے تھے ۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کی کارکردگی صفر تھی ۔انہوں نے کہاکہ صحت ،تعلیم اور دیگر شعبوںمیں کوئی کارکردگی نہیں تھی انہوں نے کہاکہ جو مشاورتی کونسل بنائی گئی ہے اس میں صوبے سے تعلق رکھنے والے محنتی اور ایماندار ٹیکنو کریٹ کو نامزد کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ جو بھی نامزدگیاں کی گئی ہیں اس میں تمام اضلاع کا خیال رکھا گیا ہے ۔اس موقع پر ثمر ہارون بلور نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف ہم نے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے اور اس کا خمیازہ بھگتا ہے اور اس کی وجہ سے ہمیں نقل مکانی کرنا پڑی ۔انہوں نے کہاکہ ہم پر ایسی حکومت مسلط کردی گئی جس کو عوام کی قربانیوں کو کوئی احساس نہیں تھا ۔انہوں نے کہاکہ لکی مروت سے دن رات میسجز آتے تھے اور وہاں پر حالات اتنے خراب تھے کہ کوئی تعلیم حاصل کرنے نہیں جاتا تھا ۔انہوں نے کہاکہ سینکڑوں بچیوں کو بنوں یونیورسٹی سے تعلیم کو خیبر باد کہنا پڑا ۔انہوں نے کہاکہ ہم دہشت گردی سے متاثرہ عوام کی بھرپور مدد کریں گے اور خیبر پختونخوا کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اقدامات اٹھائے گے ۔انہوں نے کہاکہ صوبے کے کمزور اور لاچار طبقے کے سر پر ہاتھ رکھیں گے اور ان کی آواز بنیں گے ۔انہوں نے کہاکہ جب صوبے میں دیرپا آمن آئے گا تو خوشحالی ہوگی ۔وزیر داخلہ نے کہاکہ خیبر پختونخوامیں کوئی تقسیم نہیں کی جارہی ہے ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو سیکرٹریٹ دیا گیا ہے جو گورنر اور چیف سیکرٹری کے ماتحت ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں صوبوں کو تقسیم نہیں کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت صوبے میں آمن و آمان کی بحالی کیلئے جو بھی اقدام اٹھانا پڑا اٹھائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ مظاہرین کو یہ کہتا ہوں کہ وہ چلے جائیں اور جو بھی پکڑا جائے گا اس کے ساتھ سختی سے نمٹیں گے ۔وزیر قانون نے کہاکہ یہ آئینی طریقہ کار ہے اور ماوورائے آئین نہیں ہے اور اس کو 18ویں ترمیم میں پارلیمان کے طابع کردیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ آرٹیکل 234کے تحت صوبائی اسمبلی کو بھی محدود کردیا گیا جبکہ دہشت گردی سے ملک کو محفوظ بنانے کیلئے جب تک حالات محفوظ نہ ہوں اس وقت تک آرٹیکل 234لاگو ہوگا۔وزیر داخلہ نے کہاکہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کئی ممالک میں ہوئے اور ہمارا ان سے ایک مطالبہ تھا کہ دہشت گردی کے خلاف ہمارا ساتھ دو اور یہی صورتحال یہاں پر بھی ہے ۔انہوں نے کہاکہ جو مسئلہ افغان حکومت سے تھا وہی مسئلہ اس حکومت سے بھی تھا ۔انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نیک نیتی کے ساتھ اقدامات اٹھائے گی اور بہت جلد اس دہشت گردی کو ختم کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں جس طریقے سے دہشت گردوں کے ساتھ نبٹا گیا ہے وہاں کے حالات پر فرق پڑ گیا ہے ۔وزیر قانون نے کہاکہ آئین کے مطابق جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں اس حوالے سے طویل بحث کی گئی تھی۔انہوں نے کہاکہ کابینہ کی اخری وقت تک خواہش تھی اور مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ملاقات میں تمام صورتحال اس کے سامنے رکھ دی تھی اور صبح کابینہ اجلاس سے پہلے بھی کوشش کی گئی ۔انہوں نے کہاکہ ایسے اقدامات ملک کو بچانے اور عوام کے تحفظ کیلئے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے ۔وزیر داخلہ نے کہاکہ جو پہلے بے گھر ہوئے تھے وہ اس وقت کی حکومت سے پوچھا جائے کہ معاوضے کیوں نہیں دئیے گئے ہیں اور جن کے بقایا جات ہیں ان کو ادا کئے جائیں گے ۔وزیر قانون نے کہاکہ حکومت کے پاس آئین کے مطابق اختیار ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت افواج پاکستان دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اور صوبائی حکومت افواج پاکستان اور سیکورٹی اداروں کی کی معاونت نہیں کر رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا کو 11بجے تک صوبائی وزیر اعلی چلا رہے تھے اور کچھ اہم افراد کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے ۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *