اہم خبربلوچستان

نوجوانوں کو جدید تعلیم اور ہنر سے آراستہ کرنا ناگزیر ہے، گورنر بلوچستان

بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز میں نئے داخل ہونے والے طلبہ کے اعزاز میں اورینٹیشن اور وائٹ کوٹ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل اور صوبائی وزیر تعلیم نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ آج کا دن ہمارے لیے انتہائی خوشی اور حوصلہ افزائی کا باعث ہے، بلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا صوبے کے روشن مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔گورنر شیخ جعفر مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں روزگار کا مسئلہ ہمیشہ سے درپیش رہا ہے، جبکہ پنجاب سمیت ملک کے بعض دیگر حصوں میں آبادی کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے، تاہم بلوچستان میں قدرتی وسائل اور معاشی مواقع کی صورتحال مختلف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید ہنر بھی سکھائے جائیں تاکہ وہ عملی زندگی میں اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر روزگار حاصل کر سکیں اور کسی بھی سطح پر مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے قابل ہوں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں تمام متعلقہ افراد اور اداروں نے تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے تعاون کیا ہے، جبکہ صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے بھی اس سلسلے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ صوبے کی جامعات میں تنخواہوں کی ادائیگی کا دیرینہ مسئلہ حل کرنا ہماری بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے وائس چانسلر شبیر لہڑی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جامعات میں اسکلز ڈویلپمنٹ کے سلسلے کا آغاز بھی انہی کی کاوشوں سے ہوا، جسے مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔گورنر بلوچستان نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بھرتیاں میرٹ کی بنیاد پر کی گئی ہیں، کیونکہ میرٹ کا فروغ ہی تعلیمی معیار بہتر بنانے اور اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کے وائس چانسلرز کی تعیناتی بھی ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے میرٹ پر کی گئی، کیونکہ یہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ انہوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی جامعات تعلیمی درجہ بندی میں بہتری کی جانب گامزن ہیں۔شیخ جعفر مندوخیل نے کہا کہ طلبہ کی رہائش اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ کچھ روڈ پر یونیورسٹی کے لیے زمین مختص کرنے کا ارادہ ہے، جبکہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کو بھی دستیاب وسائل کے اندر مزید جگہ فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ یہاں طلبہ کی تعداد پانچ ہزار تک پہنچائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند امر ہے کہ اس جامعہ میں داخلوں کے لیے سب سے زیادہ درخواستیں موصول ہوتی ہیں، جبکہ ای لائبریری کا قیام بھی طلبہ کو جدید تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔گورنر بلوچستان نے فیسوں میں کمی اور انہیں طلبہ کی استطاعت کے مطابق بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ جامعات کی فیسوں میں کمی کے حامی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اربوں روپے تعلیم پر خرچ کیے جانے کے باوجود یہ افسوسناک صورتحال نہیں ہونی چاہیے کہ بلوچستان کا کوئی مستحق طالب علم فیس ادا نہ کر سکنے کے باعث اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جائے۔ اس معاملے کو وہ سینیٹ میں بھی اٹھائیں گے اور یونیورسٹی انتظامیہ کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ فیسوں کو زیادہ سے زیادہ مناسب اور معقول بنانے کے لیے اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ یہ بچے ہمارے اپنے بچے ہیں اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔ گورنر بلوچستان نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کی فیکلٹی کو کنٹریکٹ سے مستقل کرنے کے پروگرام کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں، کیونکہ اساتذہ کے معاشی اور پیشہ ورانہ تحفظ سے تعلیمی اداروں کا معیار بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے نئے داخل ہونے والے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ محنت، لگن اور پیشہ ورانہ دیانت داری کو اپنا شعار بناتے ہوئے طب کے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کریں گے اور بلوچستان کے عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *