اہم خبربلوچستان

تمام محکمے طے شدہ اہداف پر مو¿ثر عملدرآمد اور رابطہ کاری مضبوط بنائیں، کمشنر ذیشان لاشاری

کوئٹہ (خ ن) کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیرِ صدارت ڈویژنل مانیٹرنگ کمیٹی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے کمیٹی کے مختلف ایجنڈا پوائنٹس پر پیش کی گئی پیشرفت، امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات اور متعلقہ سرکاری محکموں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں انسدادِ دہشت گردی اقدامات، مشتبہ افراد کی پروفائلنگ، فورتھ شیڈول کی اپ ڈیٹ، جوائنٹ رسپانس سینٹرز، مدارس کی رجسٹریشن، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیوں، تعلیمی اداروں اور صحت مراکز کی فعالیت سمیت دیگر اہم امور زیرِ بحث آئے۔اجلاس میں ایس ایس پی ایڈمن دوستین ،ڈی ایس پی سی ٹی ڈی سید شیبر شاہ ،ڈپٹی ڈائریکٹر سے این ایف کاشف مشتاق کے علاو¿ہ اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل کوئٹہ ڈویژن سید کلیم اللہ اور ایکسائز،کسٹم،نادرا،اسپیشل برانچ،ایف ائی اے ،ایف سی اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران موجود تھے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈسٹرکٹ امپلیمنٹیشن کمیٹی (DIC) کے اجلاس ماہانہ بنیادوں پر منعقد کیے جا رہے ہیں، جبکہ بیسا (BISA) ڈیش بورڈ پر شکایات اور متعلقہ سرگرمیوں کا ڈیٹا باقاعدگی سے اپ لوڈ کرنے کے عمل کو مزید مو¿ثر بنایا جائے گا۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی پروفائلنگ کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ عمل محکمہ انسدادِ دہشت گردی (CTD) کے دائرہ اختیار میں ہے اور اس پر کام جاری ہے۔اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فورتھ شیڈول میں شامل 120 مشتبہ افراد کے نام پہلے ہی بیسا ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ کیے جا چکے ہیں، جبکہ ڈیٹا کی تصدیق اور درستگی کے لیے سی ٹی ڈی کے ساتھ مزید رابطہ کاری کی جائے گی۔جوائنٹ رسپانس سینٹر (JRC) کے قیام کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ مرکز 30 جنوری 2025 کو قائم کیا گیا تھا، جس کے تحت ضلعی پولیس، سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ، انٹیلی جنس بیورو، کسٹمز، ایکسائز، نادرا، ملٹری انٹیلی جنس، آئی ایس آئی اور فرنٹیئر کور کو اپنے فوکل پرسنز نامزد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC) کے اجلاسوں کی تعداد اور ان میں زیرِ بحث اہم امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان اجلاسوں میں امن و امان، سیکیورٹی خدشات، نجی سیکیورٹی گارڈز اور فورتھ شیڈول میں شامل افراد سے متعلق معاملات پر غور کیا جاتا ہے۔مدارس کے ضوابط اور رجسٹریشن کے حوالے سے اسپیشل برانچ کی جانب سے فراہم کردہ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مدارس کی فہرست کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ہدایت کی گئی کہ اسپیشل برانچ 96غیر رجسٹرڈ مدارس کی جغرافیائی نشاندہی پر مشتمل تازہ ترین فہرست فراہم کرے، جبکہ بلوچستان چیریٹی رجسٹریشن اتھارٹی (BCRA) کو مدارس کی رجسٹریشن کے عمل میں تیزی لانے کی ہدایت کی گئی۔ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے حوالے سے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ذخیرہ اندوزی کے خلاف مو¿ثر کارروائیاں کریں اور اس سلسلے میں ہونے والی پیشرفت کی تفصیلی رپورٹ ضلعی انتظامیہ کو جمع کرائیں۔اسی طرح تخریب کارانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کرنے والے اسکول اساتذہ سے متعلق ایجنڈا پوائنٹ پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) کوئٹہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی۔محکمہ تعلیم کی کارکردگی کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ مسلسل غیر حاضری پر 46 اساتذہ کے خلاف محکمانہ تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے، جبکہ ضلع کوئٹہ میں 152 غیر فعال اسکولوں میں سے 125 اسکولوں کو دوبارہ فعال بنا دیا گیا ہے۔جبکہ مستونگ میں 410اسکول فعال ہیں۔جوکہ تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے اہم پیشرفت ہے۔صحت کے شعبے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی (DHC) کے اجلاس میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق ضلع میں 52 بنیادی مراکزِ صحت (BHUs)، 5 دیہی مراکزِ صحت (RHCs)، 6 زچہ و بچہ مراکز (MCHs) اور 3 ڈسپنسریاں فعال ہیں۔ اجلاس میں صحت مراکز کی فعالیت برقرار رکھنے اور عوام کو بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔سرکاری اور نجی ہاسٹلز کے معائنے اور نگرانی کے نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں اسپیشل برانچ کے نمائندے کو ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ تمام سرکاری و نجی ہاسٹلز کی سرگرمیوں کی نگرانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر ہاسٹل میں مقیم افراد اور رجسٹرڈ الاٹیز کی مکمل فہرست موجود ہو۔ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تخریب کار عناصر کو مبینہ طور پر سہولت فراہم کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف اقدامات اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کی روک تھام سے متعلق امور بھی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل تھے۔ غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، کسٹمز اور پولیس کو ضروری اقدامات اٹھانے اور اپنی کارروائیوں کی پیشرفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں مجموعی طور پر اس امر پر زور دیا گیا کہ تمام متعلقہ محکمے اور ضلعی انتظامیہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں طے شدہ اہداف پر مو¿ثر عمل درآمد یقینی بنائیں، باہمی رابطہ کاری کو مزید مضبوط کریں اور مانیٹرنگ کمیٹی کے تمام ایجنڈا پوائنٹس پر پیشرفت کی رپورٹس باقاعدگی سے فراہم کریں تاکہ امن و امان کے قیام، عوامی مسائل کے حل اور سرکاری اداروں کی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *