سپورٹس

عالمی مقابلوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت: انڈیا کو وضاحتی میمو کیوں جاری کرنا پڑا؟

انڈیا کی وزارتِ کھیل نے ایک وضاحتی میمورینڈم میں کہا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی اور ٹیمیں انڈیا کی میزبانی میں ہونے والے کثیر ملکی (ملٹی لیٹرل) مقابلوں میں تو شرکت کر سکتی ہیں مگر دو طرفہ مقابلوں میں یہ ممکن نہیں ہو گا اور نہ ہی ایسے میں انڈین کھلاڑیوں اور ٹیموں کو پاکستان بھیجا جائے گا۔

انڈیا کی سپورٹس فیڈریشنز، اولمپک ایسوسی ایشن اور سپورٹس اتھارٹی کو جاری کردہ ہدایات میں وزارت نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے ویزوں کے حصول کا عمل آسان بنایا جائے گا جبکہ بین الاقوامی کھیلوں کے گورننگ اداروں کے عہدیداروں کو ملٹی انٹری ویزے جاری کیے جائیں گے۔

یہ وضاحتی پیغام ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے کہ جب انڈیا 2030 میں کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کرنے جا رہا ہے جبکہ احمد آباد میں 2036 کے اولمپکس اور 2038 کی ایشین گیمز کی میزبانی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جبکہ 2031 کے کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی انڈیا اور بنگلہ دیش کریں گے اور یہ امکان ہے کہ پاکستان اپنے میچز صرف بنگلہ دیش میں ہی کھیلے گا۔

کرکٹ میں پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے کی میزبانی میں کھیلے جانے والے بین الاقوامی مقابلوں میں نیوٹرل وینیو کا مطالبہ کرتے ہیں، جیسا کہ 2025 کی چیمپیئنز ٹرافی اور 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران ہوا تھا۔

گذشتہ سال اپریل کے دوران انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں حملے کے بعد ستمبر کے دوران متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے ایشیا کپ میں انڈین ٹیم کو پاکستان کے خلاف میچ کھیلنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران انڈین ٹیم کی طرف سے ہاتھ نہ ملانے پر پاکستان نے تنقید کی تھی اور میچ ریفری کے خلاف شکایت کی تھی۔
انڈین وزارت کھیل نے اپنے میمو میں کہا ہے کہ ’بین الاقوامی اور کثیر ملکی مقابلوں کے حوالے سے، چاہے وہ انڈیا میں ہوں یا بیرون ملک، ہم بین الاقوامی کھیلوں کے اداروں کے طریقۂ کار اور اپنے کھلاڑیوں کے مفاد کو پیشِ نظر رکھتے ہیں۔‘

’یہ بات بھی اہم ہے کہ انڈیا ایک قابلِ اعتماد مقام کے طور پر بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کے طور پر ابھر رہا ہے۔‘

وزارت نے مزید کہا کہ ’جہاں تک ایک دوسرے کے ملک میں دو طرفہ کھیلوں کے مقابلوں کا تعلق ہے تو انڈین ٹیمیں پاکستان میں مقابلوں میں شرکت نہیں کریں گی اور نہ ہی ہم پاکستانی ٹیموں کو انڈیا میں کھیلنے کی اجازت دیں گے۔‘
جہاں تک کرکٹ کی بات ہے تو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہمسایہ ممالک کے درمیان 2012-13 کے بعد سے کوئی سیریز نہیں کھیلی گئی جبکہ بین الاقوامی مقابلوں میں دونوں کے میچز نیوٹرل مقامات پر ہوتے ہیں۔ انڈین کرکٹ ٹیم نے 2008 کے بعد سے پاکستان کا دورہ نہیں کیا جبکہ 2023 کے ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم نے انڈیا کا دورہ کیا تھ

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *