ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات شہ سرخیوں میں رہا ہے اور حالیہ امریکی حملوں کے بعد ایک بار پھر ملک کی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ ایران کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے چند دن قبل ہی اوپیک کو چھوڑنے کا اعلان بھی کیا تھا جب کہ ملک کے اعلی حکام ایسے بیانات دیتے رہے ہیں جن سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ یہ ملک اب نئی علاقائی حکمت عملی کی جانب بڑھ رہا ہے جو باقی خلیجی ممالک سے الگ ہو سکتی ہے۔
اس کی ایک مثال مصری فضائیہ کی تعیناتی سے بھی ملتی ہے جس کی متحدہ عرب امارات میں موجودگی کا ثبوت اس وقت سامنے آیا جب یو اے ای کی وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ شیخ محمد بن زاید نے مصری صدر کے ہمراہ مصری لڑاکا طیاروں کے سکواڈرن کا دورہ کیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ تعیناتی کب ہوئی۔ یاد رہے کہ پاکستان کی فضائیہ نے بھی کچھ عرصہ قبل ہی سعودی عرب میں لڑاکا طیارے بھیجے ہیں۔
اس تحریر میں بی بی سی عربی نے یہ جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات کیوں کر اس نہج پر پہنچے اور اس کے پیچھے کون کون سے عوامل موجود ہیں۔
آبادی کے لحاظ سے متحدہ عرب امارات سعودی عرب کے بعد سب سے بڑا خلیجی عرب ملک ہے۔ یہاں ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں میں سے 90 فیصد غیر ملکی شہری ہیں جن کا تعلق 200 مختلف ملکوں سے ہے۔
آبادی کی اکثریت ملازمت کی غرض سے انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش سے متحدہ عرب امارات آئی۔ انڈین تارکین وطن ملک کی آبادی کا 38.45 فیصد ہیں۔
2025 کے اعداد و شمار کے مطابق اماراتی شہریت رکھنے والی آبادی محض 13 لاکھ 10 ہزار ہے۔
ملک کی مجموعی آبادی میں مردوں کا تناسب 63.80 فیصد جبکہ خواتین کا 36.20 فیصد ہے۔ اس کی وجہ تارکین وطن مزدوروں کی بڑی تعداد ہے اور اکثر کے خاندان یہاں موجود نہیں ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا حجم 504 ارب ڈالر ہے اور فی کس جی ڈی پی، جسے قوتِ خرید بھی کہا جاتا ہے، 53 ہزار ڈالر ہے۔
متحدہ عرب امارات کی معیشت کا بڑا انحصار تیل پر ہے۔ یہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا 30 فیصد اور آمدن کا 41 فیصد فراہم کرتا ہے۔
ملک روزانہ 33 لاکھ 80 ہزار بیرل خام تیل پیدا کرتا ہے اور اس کے ثابت شدہ ذخائر 113 ارب بیرل کے ہیں۔
2020 میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔
امارات کا کہنا تھا کہ یہ قدم اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے الحاق کو روکنے اور فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان دو ریاستی حل کے اصول کو بچانے کے لیے اٹھایا گیا۔
2022 میں دو طرفہ آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کے بعد اماراتی۔اسرائیلی تعلقات مضبوط ہوئے۔
دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل تجارت 2020 میں 16 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 2023 میں 2.3 ارب ڈالر ہو گئی جس میں قیمتی پتھر، الیکٹرانک فٹنگز اور گاڑیاں شامل ہیں۔
غزہ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات نے حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کی مذمت کی تھی۔ جبکہ اس نے اسرائیل اور حماس کے درمیان ’فوری اور دیرپا جنگ بندی‘ کا مطالبہ کیا تھا۔
غزہ جنگ کے باوجود امارات نے اسرائیل کے ساتھ تجارت جاری رکھی جس میں 2023 سے 2024 کے درمیان 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
