اہم خبرپاکستان

قرض اور دفاع آگے، ترقی پیچھے — پاکستان کے بجٹ کی تلخ حقیقت

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مالیاتی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان میں قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات، ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جانے والے بجٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وفاقی اخراجات کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور دفاع پر صرف ہوا، جبکہ اس کے مقابلے میں ترقیاتی پروگراموں کے لیے مختص رقم بہت کم رہی۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں تقریباً پانچ ہزار ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ دفاعی اخراجات ایک ہزار 689 ارب روپے رہے۔ اس کے مقابلے میں وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) پر صرف 333 ارب روپے خرچ کیے گئے۔

اسی عرصے کے دوران ملک کا مجموعی مالیاتی خسارہ کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 0.7 فیصد، یعنی 856 ارب 35 کروڑ روپے تک محدود رہا، جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد کے برابر تھا۔

رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی آمدن 14 ہزار 800 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نو ہزار 300 ارب روپے ٹیکس وصول کیا، تاہم یہ مقررہ ہدف حاصل نہ کر سکا۔

دوسری جانب غیر ٹیکس آمدن چار ہزار 600 ارب روپے رہی، جس میں سب سے بڑا حصہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کا تھا، جو دو ہزار 428 ارب روپے رہا۔ حکومت نے اس دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 205 ارب روپے جمع کیے۔

مالیاتی خسارہ کم رکھنے میں صوبوں کے سرپلس نے اہم کردار ادا کیا۔ چاروں صوبوں نے مجموعی طور پر ایک ہزار 600 ارب روپے کا سرپلس دیا، جو سالانہ ہدف سے 172 ارب روپے زیادہ ہے۔

صوبائی سطح پر پنجاب نے سب سے زیادہ 824 ارب روپے کا سرپلس دیا، سندھ نے 441 ارب، خیبر پختونخوا نے 253 ارب اور بلوچستان نے 118 ارب روپے کا سرپلس ریکارڈ کیا۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی آمدن کا جی ڈی پی کے تناسب میں حصہ کم ہو کر 11.4 فیصد رہ گیا، جو گذشتہ سال 11.7 فیصد تھا۔ اسی طرح ٹیکس آمدن کا تناسب بھی آٹھ فیصد سے کم ہو کر 7.8 فیصد پر آ گیا۔

سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کی وصولیوں میں بھی کمی دیکھی گئی، جبکہ صوبائی ٹیکس آمدن میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *