صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے رہائشی محمد ریاض نے اپنی والدہ کے کہنے پر فرنٹیئر کور کی نوکری اس لیے چھوڑی تھی کیونکہ والدہ کے مطابق اِس نوکری میں اُن کے بیٹے کی جان کو خطرہ رہتا تھا۔
نوکری چھوڑنے کے بعد محمد ریاض نے کچھ عرصہ قبل ہی روزگار کی غرض سے ایک رکشہ خریدا تھا لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
جب منگل کے روز لکی مروت میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے نو افراد کی فہرست سامنے آئی تو اُس میں 35 سالہ محمد ریاض کا نام بھی شامل تھا۔
یاد رہے کہ لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں ایک موٹر سائیکل میں نصب بارودی مواد پھٹنے سے نو افراد ہلاک جبکہ 22 زخمی ہوئے تھے۔
ضلع پولیس افسر نذیر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بظاہر دھماکہ خود کش حملہ لگتا ہے لیکن اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی تفتیش ظاہر کرتی ہے کہ اس حملے میں 10 سے 12 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔
بازار میں موجود عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جب صبح لگ بھگ ساڑھے دس بجے دھماکہ ہوا تو اس وقت پھاٹک چوک پر کافی رش تھا۔ اس چوک میں ایک جانب بسوں کا اڈا ہے اور دوسری طرف تھری ویلرز یعنی چنگ چی اور رکشوں کا سٹاپ۔ جبکہ ٹریفک کا انتظام سنبھالنے کے لیے یہاں ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی موجود رہتے ہیں۔
تاحال کسی کالعدم شدت پسند تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
محمد ریاض کے رشتہ دار ولی اعظم نے بی بی سی کو بتایا کہ ریاض کے والد پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور تھے اور کچھ عرصہ قبل وفات پا گئے تھے۔
