رحیم یار خان کے کچے کے علاقے میں سرگرم اور درجنوں مقدمات میں مطلوب تنویر اندھڑ اور اس کے ساتھی ظفری جبھیل نے پولیس کے سامنے سرنڈر کر دیا۔ تنویر اندھڑ پر ایک کروڑ روپے کا انعام مقرر تھا اور وہ اندھڑ گینگ کا سب سے سفاک سربراہ تصور کیا جاتا تھا۔
پنجاب پولیس کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عرفان سموں کے مطابق:
تنویر اندھڑ قتل، ڈکیتی اور دیگر سنگین وارداتوں میں مطلوب تھا۔
یہ گینگ ملتان موٹروے حملہ کیس اور پانچ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت سمیت 45 سنگین مقدمات میں شامل تھا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ کچے کے علاقے میں جاری آپریشن کے دوران:
69 ڈاکو ہلاک
97 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
سرنڈر کرنے والے ڈاکوؤں کی کل تعداد 229 تک پہنچ گئی
اندھڑ گینگ پہلی بار 2021 میں شہ سرخیوں میں آیا تھا، جب موٹر سائیکل پر سوار درجن بھر افراد نے صادق آباد کے پیٹرول سٹیشن پر نو افراد کو قتل کیا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیوز سی سی ٹی وی اور بعد میں سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں۔
رحیم یار خان پولیس نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ اینٹی ایئر کرافٹ گن کے ساتھ لمبے بالوں والا مخمنی سی جسامت شخص اور اس کا دبلا پتلا ساتھی، سرینڈر کے بعد قانون کے شکنجے میں آ گئے ہیں۔
