پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت، علاج اور قانونی معاملات کو لے کر پارٹی قیادت اور خاندان کے درمیان اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ پارٹی میں موجود کچھ وکلا اپنے بھائی کی رہائی کے لیے کوشش نہیں کر رہے اور عمران خان کے علاج کے معاملات میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
پی ٹی آئی کے سربراہ بیرسٹر گوہر علی خان نے ان الزامات کی تردید کی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے علیمہ خان پر بھی عمران خان کے علاج میں تاخیر کا الزام عائد کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی جیل میں غیر موجودگی کے دوران پارٹی کی باگ ڈور بعض وکلا کے ہاتھ میں رہی، اور ان کی محدود ملاقاتوں کی وجہ سے علیمہ خان اور پارٹی قیادت کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا ہوا۔
اس صورتحال کے باعث پارٹی میں قیادت کے تبدیلی کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی گرم ہے کہ موجودہ قیادت واقعی چاہتی ہے کہ عمران خان جیل سے باہر نہ آئیں۔
