سپورٹس

امریکی حملوں کے باوجود ایران کی ورلڈ کپ شرکت پر سوالیہ نشان

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کی ’کوئی فکر نہیں‘ کہ آیا ایران رواں سال فٹبال ورلڈ کپ میں حصہ لے گا۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر فضائی بمباری کی ہے اور ایران نے جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے امریکہ کے خلیجی اتحادیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

قریب 100 دنوں میں امریکہ ایک فٹبال ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کرے گا جس کے لیے ایران پہلے ہی کوالیفائی کر چکا ہے۔

سنیچر کے روز امریکہ نے اسرائیل سے مل کر ایران پر حملہ کیا، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ تنازع متعلقہ ممالک، فیفا اور اس ورلڈ کپ کے لیے جو پہلے ہی انتہائی سیاسی نوعیت کا سمجھا جا رہا تھا، کیا معنی رکھتا ہے؟

بی بی سی سپورٹ نے اس صورتحال کا مفصل جائزہ لیا ہے۔

کیا ایران اب بھی ورلڈ کپ میں حصہ لے گا؟
ایران کے گروپ میچز، جو اس کا مسلسل چوتھا ورلڈ کپ ہوگا، نیوزی لینڈ اور بیلجیم کے خلاف لاس اینجلس میں میچجز ہیں، پھر مصر کے خلاف سیئٹل میں میچ ہوگا۔

گذشتہ موسمِ گرما میں جب امریکہ نے ملک میں تین جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی، ایران نے مقابلے سے دستبرداری اختیار نہیں کی تھی۔ لیکن موجودہ جنگ کے بعد ایران کی فٹبال فیڈریشن کے سربراہ نے مبینہ طور پر شرکت پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

مہدی تاج نے ایرانی ٹیلی وژن کو بتایا کہ ’جو کچھ ہوا۔۔۔ اور امریکہ کے اس حملے کے بعد یہ امکان کم ہے کہ ہم ورلڈ کپ کے منتظر رہ سکیں، لیکن اس بارے میں فیصلہ کھیلوں کے حکام کو کرنا ہے۔

تاہم ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد اور ملک کے سیاسی منظرنامے کے مستقبل پر شدید غیر یقینی کی فضا میں، ایسے فیصلے کی پیش گوئی کرنا – یا یہ کہ فیصلہ کون کرے گا ناممکن ہے۔

چیتم ہاؤس کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ پروگرام کی ڈائریکٹر ڈاکٹر صنم وکیل نے کہا کہ ’تہران کے لیے یہ کوئی مختصر 12 روزہ جنگ یا محدود کشیدگی کا دور نہیں ہے جسے روکا اور دوبارہ شروع کیا جا سکے‘۔

’یہ تنازع کا نیا مرحلہ ہے جو واضح طور پر نظام کے بقا سے متعلق ہے۔ اس کے جلد ختم ہونے کا امکان بھی نہیں ہے۔‘

فیفا، فٹبال کی عالمی تنظیم، نے کہا ہے کہ وہ حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے لیکن اس وقت حکام نجی طور پر کہہ رہے ہیں کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ایران ورلڈ کپ میں ہوگا۔ سنیچر کو فیفا کے سیکریٹری جنرل میٹیاس گرافستروم نے کہا کہ ’ہمارا فوکس ایک محفوظ ورلڈ کپ پر ہے جس میں سب شریک ہوں۔‘

اس کے قواعد کے مطابق، اگر کوئی ٹیم دستبردار ہو یا باہر کر دی جائے، تو فیفا ’ضروری اقدام‘ اٹھا سکتا ہے، اور ’کسی دوسری ایسوسی ایشن کو شامل کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔‘

بی بی سی سپورٹ نے فیفا سے وضاحت مانگی ہے کیونکہ یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ ایران کی جگہ ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کی کوئی دوسری ٹیم لے سکتی ہے۔

اس بنیاد پر، عراق، جو ماہ کے آخر میں براعظمی پلے آف کے ذریعے ویسے بھی کوالیفائی کر سکتا ہے یا متحدہ عرب امارات، جو کوالیفائی کرنے سے محروم رہا متبادل کے طور پر پسندیدہ امیدوار ہوں گے۔

’ہم ایک انجان خطے میں ہیں‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے تحت 12 ممالک بشمول ایران کے شہریوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، اس اقدام کو سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کی کوشش قرار دیا گیا۔

اگرچہ ورلڈ کپ کے کھلاڑی اور کوچنگ سٹاف اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں مگر ایران نے دسمبر میں واشنگٹن میں ہونے والی قرعہ اندازی کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی تھی کیونکہ اس کے بعض حکام کی ویزا درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔

لیکن اگر ایران کھیلتا ہے تو اب ٹیم کے میچز اور ایریزونا میں منصوبہ بند تربیتی کیمپ کے ارد گرد سکیورٹی پر مزید کڑی نظر رکھے جانے کا امکان ہے۔

قطر میں 2022 ورلڈ کپ کے دوران، جس میں امریکہ کے خلاف میچ بھی شامل تھا، ایران کے میچز ملک میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کے پس منظر میں ہوئے تھے۔

ویلز کے خلاف دوسرے میچ کے دوران تو ایسے شائقین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن کے ایران کی حکومت کے بارے میں مختلف خیالات تھے اور چونکہ ٹرمپ ایران میں نظام کی تبدیلی کی امید رکھتے ہیں تو اس بات کا امکان ہے کہ اس موسمِ گرما میں بھی ایسا منظرنامہ سامنے آئے۔ لاس اینجلس، جہاں ایران کے دو میچ شیڈول ہیں، دنیا کی سب سے بڑی ایرانی کمیونٹیز میں سے ایک کا گھر ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم فیئر سکوائر کے نک مک گیہن نے کہا کہ ’ہم ایک انجان مرحلے میں ہیں کیونکہ ورلڈ کپ کے آغاز میں صرف تین ماہ باقی ہیں اور میزبان ملک نے ابھی ایک شریک ملک کے خلاف جارحانہ جنگ شروع کی ہے۔‘

’اگر ایران اپنی ٹیم واپس لے لیتا ہے، جو بالکل ممکن نظر آتا ہے تو فیفا شاید احتجاج اور بدامنی کے امکانات کے پیش نظر سکون کا سانس لے گا۔‘

لیکن اگر ایران غیر حاضر بھی ہو، کشیدگی بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ ایونٹ امریکی اعلانِ آزادی کی 250ویں سالگرہ کے جشن کا حصہ ہوگا اور ٹرمپ کی نمایاں موجودگی متوقع ہے جیسا کہ وہ گذشتہ سال کلب ورلڈ کپ اور رائیڈر کپ میں تھے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *