Uncategorized

غزہ پر تازہ حملے میں اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کے اہم کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے غزہ سٹی پر فضائی حملے میں حماس کے کمانڈر عزالدین الحدّاد کو ہلاک کر دیا ہے، جنھیں اُس نے ’سات اکتوبر کے حملے کے منصوبہ سازوں میں سے ایک‘ قرار دیا تھا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے مشترکہ بیان میں کہا کہ الحدّاد ’ہزاروں اسرائیلی شہریوں اور اسرائیلی دفاعی افواج کے اہلکاروں کے قتل، اغوا اور زخمی ہونے کے ذمہ دار‘ تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق غزہ سٹی کے وسط میں واقع ایک رہائشی عمارت، جسے ’المعتز‘ کہا جاتا ہے، کو دو مختلف سمتوں سے بیک وقت داغے گئے تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد ایک گاڑی پر بھی حملہ کیا گیا۔

یہ حملہ اُس وقت کیا گیا جب حماس کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے جاری ہیں۔

حماس نے تاحال اس بات کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ تردید کہ اس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے کمانڈر الحدّاد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ فضائی حملہ غزہ سٹی کے مرکز میں واقع اپارٹمنٹ بلاک پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں، تاہم زخمیوں کو نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ عمارت سے ایک لاش اور کئی زخمی افراد کو نکالا گیا۔

عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق ایک دوسری فضائی کارروائی میں اس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جو جائے وقوعہ سے روانہ ہو رہی تھی، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ پہلی کارروائی میں شدید زخمی ہونے کے بعد الحدّاد کو اسی گاڑی کے ذریعے منتقل کیا جا رہا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق سادہ لباس میں ملبوس حماس کے مسلح افراد ایک شدید زخمی شخص کو عمارت کے عقبی راستے سے نکال کر گاڑی میں منتقل کرتے نظر آئے۔ بعد ازاں اس گاڑی کو تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر نشانہ بنایا گیا۔

ایک سینئر اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے کہا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق الحدّاد کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *