Uncategorized

پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار نیوی گیشن سسٹم کی خرابی کے باعث کویتی سمندری حدود میں داخل ہو گئے تھے: ایران

ایران نے منگل کے روز کویت کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے چار اہلکاروں نے کویت کے جزیرے بوبیان میں دراندازی کی کوشش کی تھی۔

ایران کا کہنا ہے کہ کویت کے الزام ’مکمل طور پر بے بنیاد‘ قرر دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ فوجی اہلکار نیویگیشن سسٹم میں ’خرابی‘ کے باعث کویتی سمندری حدود میں داخل ہو گئے تھے۔

بی بی سی عربی نے ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان کا حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کویتی حکومت کی جانب سے ’اس معاملے ذرائع ابلاغ میں اچھالنے اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے اقدام کی سختی سے مذمت کرتی ہے۔‘

اس سے قبل کویتی خبر رساں ادارے ’کونا‘ نے وزارتِ داخلہ کے حوالے سے ایک بیان میں بتایا کہ یہ افراد سمندر راستے سے ملک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ جب انھیں حراست میں لیا گیا۔

وزارت کے مطابق ان افراد کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کے دوران کویتی مسلح افواج کا ایک اہلکار زخمی بھی ہوا۔

مزید بتایا گیا کہ زیرِ حراست افراد نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ ان کا تعلق اسلامی جمہوریہ ایران سے ہے اور وہ پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار ہیں۔

کویتی وزارتِ داخلہ کے مطابق ملزمان نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ’انھیں ایک مخصوص مشن کے تحت بوبيان جزیرے میں بھیجا گیا تھا، جس کے لیے انھوں نے ایک چھوٹی کشتی کرائے پر حاصل کی تھی تاکہ کویت کے خلاف دشمنانہ کارروائیاں انجام دی جا سکیں۔‘

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *