Uncategorized

کیوبا امریکہ کے لیے خطرہ ہے: مارکو روبیو

امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ کیوبا امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کے امکانات زیادہ نہیں ہیں۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے ایک دن پہلے کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو پر 1996 میں دو طیارے گرانے اور امریکی شہریوں کی ہلاکت کا الزام لگایا۔

روبیو نے کہا کہ امریکہ اب بھی مسئلے کا حل سفارتی طریقے سے چاہتا ہے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ملک کو کسی بھی خطرے سے بچانے کا حق حاصل ہے۔

دوسری طرف، کیوبا اس وقت ایندھن کی کمی کا شکار ہے، جس کی ایک بڑی وجہ امریکی پابندیاں ہیں۔ اس کے باعث وہاں بجلی کی طویل بندش اور خوراک کی کمی جیسے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔

روبیو نے یہ بھی کہا کہ کیوبا نے امریکہ کی جانب سے 100 ملین ڈالر کی انسانی امداد قبول کر لی ہے۔ اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ مسلسل کیوبا پر دباؤ ڈال رہی ہے اور اس کی کمیونسٹ حکومت کو ختم کرنے کی بات بھی کر رہی ہے۔

امریکہ کی جانب سے سابق صدر پر مقدمہ چلانے کو کچھ لوگ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف امریکی کارروائی سے بھی ملا رہے ہیں۔

ادھر کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے روبیو کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ’جھوٹ‘ قرار دیا اور کہا کہ کیوبا نے کبھی امریکہ کے لیے خطرہ پیدا نہیں کیا۔

روبیو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سفارتکاری اب بھی ترجیح ہے، لیکن موجودہ حالات میں اس کے امکانات کم ہیں۔

انھوں نے کیوبا پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ خطے میں دہشت گردی کی حمایت کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، جسے کیوبا نے سختی سے رد کر دیا۔

کیوبا کے وزیر خارجہ نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ فوجی جارحیت کو ہوا دے رہا ہے اور مسلسل ان کے ملک کے خلاف سخت اقدامات کر رہا ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *