Uncategorized

پراجیکٹ فریڈم پاکستان کی جانب سے اس یقین دہانی پر روکا کہ ایسا کرنے سے ہم کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں: مارکو روبیو

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ امریکی صدر نے پاکستان کے کہنے پر پراجیکٹ فریڈم روکا۔

امریکی وزیرِ خارجہ سے جب یہ سوال ہوا کہ کیا پراجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع ہو سکتا ہے اور کیا ایران پر حملوں کا آغاز ایک مرتبہ پھر ہو سکتا ہے؟

تو اس کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’پراجیکٹ فریڈم کے روکے جانے کی وجہ یہ تھی کہ ایسا کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے درخواست کی گئی تھی اور انھوں نے یعنی پاکستان نے یہ کہا تھا کہ اگر آپ پراجیکٹ فریڈم کو روکتے ہیں تو ہمیں یہ لگتا ہے کہ ہم ایک مُمکنہ ’ڈیل‘ یا معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے بھی خیال میں یعنی امریکی صدر بھی یہی چاہتے ہیں کہ ’اس معاملے کا حل سفارتی انداز میں نکالا جائے، ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم اپنے بیڑے خلیجِ فارس سے نکال لیتے ہیں، اور آپ نے یہ بھی دیکھا کہ اس کے باوجود اُن پر ایران کی جانب سے حملے کیے گیے۔‘

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر اب بھی اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ ’ایران کے ساتھ موجود مسائل کا ’سفارتی حل‘ نکالا جائے۔ ہماری جانب سے ایرانی حکومت اور انتظامیہ کو ہر قسم کا موقع دیا جائے مگر ایران میں ایک تقسیم کی فضا پائی جاتی ہے، یعنی وہاں فیصلہ کس نے کرنا ہے اس بارے میں ابھی تک ابہام موجود ہے۔‘

مارکو روبیو سے انٹرویو کے دوران ایک اور سوال کہ کیا ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا حصہ ہیں کیا اور ایرانی انتظامیہ کی رہنمائی کر رہے ہیں؟ اس کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ مذاکرت میں تو ایرانی وزیرِ خارجہ سامنے آتے ہیں اور اب اس بات کا واضح طور پر علم نہیں ہے کہ وہ ایران واپس جا کر وہاں کی انتظامیہ، سپریم کونسل یا نئے رہبرِ اعلیٰ کس سے بات کرتے ہیں اور فیصلہ کون کرتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اسی وجہ سے ہماری جانے سے تجاویز کے بعد اس پر جواب میں ایران کی جانب سے چار سے پانچ دن لگ جاتے ہیں، کیونکہ یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ کس سے بات کرتے ہیں اور امریکہ کو جواب دینے کے لیے انھیں کسی کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *