”کوئی مانے یا نہ مانے“ یہی وہ جملہ ہے جس کے سائے میں سچ کو بھی مسخ کیا جا سکتا ہے اور جھوٹ کو بھی دلیل کا لبادہ پہنایا جا سکتا ہے۔۔۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی فرماتے ہیں کہ ملک کا موجودہ نظام تباہ ہو چکا ہے ۔۔۔ سوال مگر یہ ہے کہ یہ تباہی آسمان سے نازل ہوئی یا اسے زمین پر بٹھانے والوں کے ہاتھ بھی اس میں رنگین ہیں؟؟؟کوئی مانے یا نہ مانے،حقیقت یہ ہے کہ جس نظام کو آج کوسا جا رہا ہے،اسی کے’ کندھوں‘ پر سوار ہو کر اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کی گئی۔۔۔ کوئی مانے یا نہ مانے،چار سالہ دور میں وہی’ فیصلے‘ ہوئے جنہوں نے اداروں کو کمزور،معیشت کو نڈھال اور عوام کو مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا اور کوئی مانے یا نہ مانے،آج جو’ نوحہ‘ پڑھا جا رہا ہے،اس کے کئی’ مصرعے ‘انہی ہاتھوں سے لکھے گئے جنہیں اب’ مصلح ‘بننے کا شوق چرایا ہے۔۔۔محسن نقوی کا یہ کہنا کہ ستر برس سے ایک ہی نظام گھسیٹا جا رہا ہے،بظاہر ایک سادہ سی بات لگتی ہے مگر اس کے پیچھے ایک’ خطرناک بیانیہ‘ چھپا ہے۔۔۔
پاکستان
کوئی مانے یا نہ مانے، نظام کی تباہی کے معمار اب نوحہ گر
