اسلام آباد (آن لائن) وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی منظم سازش کی جارہی ہے ۔ ملک کو مشرقی اور مغربی سرحدوں سے دہشتگردی کے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ ٹیررکرائم نیٹ ورک دہشتگردی کے لئے سہولت کاری فراہم کر رہا ہے ۔ بد قسمتی سے ٹیرر نیٹ ورک کرائم کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا ملک میں دہشت گردی کے خلاف روزانہ تقریباً 200انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں، تاہم سیکیورٹی وجوہات کے باعث ان کارروائیوں کی بیشتر تفصیلات منظرعام پر نہیں لائی جاتیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کی آڈیو، ویڈیوز اور دیگر شواہد بھی سامنے رکھے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا پاکستان میں دہشت گردی اور عدم استحکام کی کوششوں میں افغانستان میں موجود عناصر کے کردار کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ملک کو مشرقی اور مغربی سرحد سے دہشتگردی کے چیلنج کا سامنا ہے ۔ دہشت گردی کے ساتھ منظم ٹیرر کرائم نیکسس بھی کارروائیوں کو سہولت فراہم کر رہا ہے۔ اسمگلنگ، منشیات، گاڑیوں، پٹرولیم مصنوعات اور اسلحے کی غیرقانونی ترسیل ایسے نیٹ ورک کا حصہ ہیں، جبکہ دہشت گردی کے لیے اسلحے کی فراہمی عام جرائم پیشہ عناصر سے بڑے منظم نیٹ ورکس تک پہنچ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کو منظم انداز میں اسپانسر اور مینیج کرنے کے حوالے سے شواہد سامنے آئے ہیں۔ آزاد کشمیر میں ایک جے کے تنظیم کو شواہد کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا ہے اور اس کے خلاف تحقیقات اور مزید شواہد سامنے آنے کا عمل جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی بعض آڈیوز کو اے آئی جنریٹڈ قرار دینے سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے تھے۔ طلال چوہدری نے کہا کہ اسمگل شدہ آئل کے پٹرول پمپس سیاسی مدد کے بغیر نہیں چل سکتے، جبکہ پاکستان کے کئی اضلاع اور ڈویڑنز میں قانونی گاڑیوں کے مقابلے میں اسمگل شدہ گاڑیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اسمگل شدہ لگڑری گاڑیوں کے کاروبار میں سیاسی سپورٹ اور سیاسی کرائم نیٹ ورکنگ کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ٹیرر کرائم نیٹ ورک میں سیاسی طبقے سمیت مختلف لوگوں کے مفادات وابستہ ہیں، اس لیے کاو¿نٹر ٹیررزم ڈرائیو میں ایسے نیٹ ورک کا خاتمہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کاو¿نٹر ٹیررزم ڈرائیو میں 20 سے زائد نکات شامل ہیں، جبکہ غیرقانونی پٹرول پمپس، اسمگلنگ اور منشیات سمیت مختلف غیرقانونی کاروبار ٹیرر کرائم نیٹ ورک کو مالی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کاو¿نٹر ٹیررزم ڈرائیو کا جائزہ وزیر داخلہ ہر ماہ لیتے ہیں جبکہ وزیراعظم ہر تین سے چار ماہ بعد اس حوالے سے اجلاس کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک مبینہ معاملے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ 22 لاکھ روپے کی ڈیل میں 11 لاکھ روپے ادا کیے گئے جبکہ کچھ رقم ہنڈی کے ذریعے بھیجی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہنڈی کے کاروبار کو ختم کرنے کی کوششوں میں مزاحمت اور مختلف کورز بھی سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے ایک سرکاری ملازم اکبر کے حوالے سے بتایا کہ وہ ہر ٹھیکے کے بدلے رقم وصول کرتا رہا اور اپنے سرکاری عہدے کے کور میں اسلحے کی ترسیل کرتا رہا۔ افغانستان سے براستہ پاکستان اسلحہ آزاد کشمیر کے کوٹلی تک پہنچایا گیا، جبکہ اس ترسیل میں مقامی سہولت کا بھی ملوث تھے۔ انہوں نے کہا آپریشن کے دوران ایک ضیاءنامی شخص کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی یہ شخص آزاد کشمیر کا رہائشی ہے اور آٹھ سے دس سال سے ناجائز اسلحے کے کاروبار میں ملوث ہے اور مختلف اوقات میں اسلحے کی کئی کھیپ جے کے تنظیم سے وابستہ قریبی افراد تک پہنچا چکا ہے۔ انہوں نے کہا ضیا کا شرپسند مان اللہ کے کارندے ماجد سے را بطہ تھا ۔ انہوں نے ضیا اور ماجد کے رابطے کی ویدیو بھی چلائی ۔ ضیا کا افغانستان سے باڑا بھیجنے والے شخص زرشاد سے بھی رابطہ تھا ۔ انہوں نے کہا ااکبر نامی سرکاری ملازم ہے جو ناجائز اسلحہ کا کراوبار کرتا ہے ہر پھیرے کے پیسے لیتا ہے یہ اسلحہ لے کر آتا ہے ۔ انہوں نے ضیا اور اکبر کی آڈیو کال بھی سنائی۔ ان کا کہنا تھا گزشتہ دو سال کے دوران بھی مختلف کنسائنمنٹس مخصوص افراد تک پہنچائے جانے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا سرکاری حکام پہلے بھی دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں اور دہشت گردی کو سہولت دینے والے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات جاری کرتے رہے ہیں۔وزیر مملکت نے آزاد جموں و کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی بہت سے سوالات اٹھائے گئے تھے کہ یہ کشمیریوں کے حقوق کی سیاسی جماعت یا کوئی کمیٹی ہے اور اسے سیاسی بنیادوں پر کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ ہم نے اس وقت بھی واضح کیاتھا کہ جماعت کو انتہائی ذمہ داری کے ساتھ دستیاب شواہد کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا، جن کی تحقیقات جاری ہیں اور اس حوالے سے بہت سی چیزیں سامنے آ چکی ہیں۔ ان عناصر کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی بعض آڈیوز بھی لوگوں نے سنیں، تاہم ان کے حوالے سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا وہ مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہیں یا ان میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ان معاملات کی حقیقت جاننے کے لیے شواہد اور تحقیقات کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس دہشت گردی اور اس کی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے لیے شواہد موجود ہیں اور ان معاملات کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے حقائق اور تحقیقات کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے
اہم خبرپاکستان
دہشتگردی کیخلاف روزانہ 200 انٹیلی جنس آپریشنز، ٹیرر کرائم نیکسس توڑنا ہدف ہے، طلال چوہدری
