کوئٹہ : نیشنل پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس پارٹی کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی زیرِ صدارت کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیرمحمدشہی، پنجاب وحدت کے صدر ایوب ملک، پشتونخوا وحدت کے صدر ڈاکٹر سرفراز احمد، بلوچستان وحدت کے صدر اسلم بلوچ اور سندھ وحدت کی نمائندگی کامریڈ رمضان نے کی۔ اجلاس میں مرکزی کمیٹی کے اراکین، پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین بوہیر بلوچ نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ملک اس وقت شدید سیاسی، معاشی اور انتظامی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات انتہائی گھمبیر ہیں، جبکہ ریاست کی رِٹ کئی علاقوں میں نہایت کمزور ہوچکی ہے۔ سیاسی عمل میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں، میڈیا اور دیگر اداروں پر پابندیاں عائد ہیں، پارلیمنٹ اور دیگر جمہوری ادارے مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ انصاف کے ادارے بھی م¶ثر انداز میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے نظر نہیں آرہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی بڑی سیاسی و جمہوری جماعتیں بھی مختلف نوعیت کے سمجھوتوں کا شکار دکھائی دیتی ہیں، جس کے باعث ملک کو درپیش بنیادی مسائل کے سیاسی حل کے لیے م¶ثر اور سنجیدہ کوششیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ طاقت کے ذریعے سیاسی اور سماجی مسائل حل کرنے کی حکمتِ عملی مسائل کو ختم کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں ریاست اور عوام کے درمیان موجود خلیج مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس خلیج کو کم کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی مکالمے، جمہوری عمل، آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور عوام کے سیاسی، معاشی و قومی حقوق کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات میں نئے صوبوں کے قیام یا قومی وحدتوں کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی پالیسی انتہائی حساس معاملہ ہے۔ ایسی پالیسی ملک میں پہلے سے موجود سیاسی، قومی اور وفاقی پیچیدگیوں کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی وحدتوں کو تقسیم کرنے یا ان کی تاریخی و سیاسی شناخت کو کمزور کرنے والی کسی بھی پالیسی سے ملک کے وفاقی ڈھانچے، سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادت کو ایسی پالیسیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو قومی وحدتوں کے درمیان بداعتمادی کو مزید فروغ دیں۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل مزید انتظامی تقسیم یا طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ جمہوریت کی بحالی، آئین کی بالادستی، وفاقی اصولوں کے احترام، سیاسی مکالمے، پارلیمنٹ کی بالادستی اور تمام قومی وحدتوں کے مساوی سیاسی و معاشی حقوق کے تحفظ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی سیاسی قیادت کو موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے وسیع تر سیاسی مکالمے کا آغاز کرنا ہوگا اور تمام سیاسی و قومی اکائیوں کو اعتماد میں لے کر ایک ایسا متفقہ قومی راستہ اختیار کرنا ہوگا جو پاکستان کے وفاق کو مضبوط، جمہوری اداروں کو مستحکم اور عوام کے اعتماد کو بحال کرسکے۔
اہم خبربلوچستان
سیاسی مکالمہ، آئین کی بالادستی اور وفاقی اصولوں کا احترام ضروری ہے,عبدالمالک بلوچ
