بلوچستان

بلوچ نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرنے والا نیٹ ورک یورپ میں سرگرم ہے: وزیراعلیٰ بگٹی

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ یورپ میں منظم گروہ بلوچ نوجوانوں، خصوصاً یونیورسٹی طلبہ کو شدت پسندی کی جانب مائل کر رہے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں نکتۂ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں ایک ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹر فعال کر دیا گیا ہے جہاں زیرحراست افراد کو مختلف سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور انہیں اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت بھی دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیوں سے نوجوانوں کو نکال کر انہیں خودکش بمبار بنانا کسی صورت خدمت نہیں کہلا سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت کسی بھی شخص کو حراست میں لینے کے 12 گھنٹوں کے اندر اس کے اہلِ خانہ کو آگاہ کرنا ضروری ہوگا اور اسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا، جبکہ تین ماہ کی حراست کے دوران ہر ہفتے اہلِ خانہ سے ملاقات بھی کروائی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے کوئٹہ کے ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹر کی ویڈیو بھی ایوان کو دکھائی اور بتایا کہ اس مرکز میں حراست کی مدت میں توسیع کیلئے ہائی کورٹ کی منظوری لازمی ہوگی، جبکہ اس کا انچارج ایک سویلین ایس پی ہوگا۔

اجلاس کے دوران نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پسنی فش ہاربر سے متعلق حکومتی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے زبانوں کی اکیڈمیوں کے بورڈز میں محکمہ خزانہ کے اضافی اور ڈپٹی سیکریٹریز کو شامل کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ محدود وسائل پر چلنے والی اکیڈمیوں کیلئے ایسے اقدامات غیر عملی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کو خدشات ہیں تو ان اداروں کا آڈٹ کرایا جائے۔

عبدالمالک بلوچ نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران جھاؤ، گشکور اور کوگدان سمیت مختلف علاقوں میں نیشنل پارٹی کے چار سے پانچ کارکن قتل کیے گئے ہیں، جس پر انہوں نے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

بی این پی عوامی کے رہنما میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ مادری زبانوں کا فروغ آئینی ذمہ داری ہے اور زبانوں کی اکیڈمیوں کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے پنجگور میں جاری تشدد پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں مسلسل لاشیں مل رہی ہیں اور حکومت کو شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرتے وقت شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔

جواب میں وزیراعلیٰ بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نیشنل پارٹی نے بھی قربانیاں دی ہیں اور ایوان پنجگور اور تربت میں پیش آنے والے واقعات کی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد زبانوں کی اکیڈمیوں کے مالی معاملات کی نگرانی کرنا ہے کیونکہ اسپیشل برانچ کی آڈٹ رپورٹ میں کچھ مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بعض بلوچ شاعری کو نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکسانے اور خودکش حملوں پر آمادہ کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

لاپتہ افراد کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اسے پیچیدہ معاملہ قرار دیا اور کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ جبری گمشدگیوں کے خلاف رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں لاپتہ افراد کی تعداد بلوچستان سے زیادہ ہے مگر اس پر کم توجہ دی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے ڈی ریڈیکلائزیشن مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں سے ایک کوئٹہ میں فعال ہو چکا ہے جبکہ جنوبی اضلاع میں مزید مراکز کے قیام کیلئے فنڈز بھی منظور کر لیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے شدت پسند رہنما بشیر زیب کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کی کارروائیوں کے باعث 190 بلوچ ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کے ذریعے بلوچستان کو آزادی نہیں مل سکتی اور حکومت نوجوانوں کیلئے عالمی تعلیمی اداروں، بشمول ہارورڈ یونیورسٹی، میں تعلیم کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری شناخت سب سے پہلے پاکستانی ہے، اس کے بعد ہم بلوچ یا بگٹی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا راستہ کھلا ہے، تاہم مسائل کا حل تشدد یا بندوق کے زور پر ممکن نہیں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *