اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف نے ہاو¿سنگ، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں اور زرعی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی میں تیزی لانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مالی وسائل تک آسان رسائی روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے اسٹیٹ بینک کو قرضوں کی منظوری اور رقوم کی ادائیگی کا عمل مزید آسان بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منظور شدہ قرضوں کی رقم شہریوں تک بروقت پہنچانا یقینی بنایا جائے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملک کے بڑے کمرشل بینکوں کے صدور اور چیف ایگزیکٹو افسران کے وفد سے ملاقات کی اور وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کے لیے بینکاری شعبے کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے عوام کو اپنے گھر کا مالک بنانے، چھوٹے کاروباروں کو مالی معاونت فراہم کرنے اور کسانوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بینکوں کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کی ترقی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ حکومت کے ان اقدامات کا مقصد عام شہریوں، کاروباری افراد اور کسانوں کو مالی وسائل تک رسائی فراہم کرنا ہے، جبکہ ہاو¿سنگ، ایس ایم ایز اور زراعت کے شعبوں میں قرضوں کی فراہمی بہتر بنانے سے سرمایہ کاری، پیداوار اور مجموعی معاشی ترقی کو تقویت ملے گی۔اجلاس کو وزیراعظم اپنا گھر پروگرام پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس اسکیم کے تحت اب تک 426 ارب روپے کے قرضے منظور کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 76 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ مالی سال 2026-27 کے لیے 125,000 رہائشی یونٹس کی تعمیر اور فراہمی کے سلسلے میں 700 ارب روپے کی فنانسنگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے قرضوں کی منظوری اور ان کی اصل ادائیگی کے درمیان فرق کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو حقیقی فائدہ اسی وقت پہنچے گا جب منظور شدہ رقوم بروقت فراہم کی جائیں گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈیولپرز کی قرضوں تک رسائی کے لیے ایک فریم ورک پر مشاورت بھی جاری ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری شعبے میں اب تک تقریباً 350,862 کاروباری افراد کو مجموعی طور پر 1,137 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ جون 2027 تک اس شعبے میں قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے اور مستفید ہونے والے کاروباری افراد کی تعداد 565,000 تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ایس ایم ایز کی مالی ضروریات پوری کرنا معاشی ترقی اور روزگار کے فروغ کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں اور بینکوں پر زور دیا کہ قرضوں کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کرکے زیادہ سے زیادہ کاروباری افراد کو اس سہولت سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔زرعی شعبے کی مالی معاونت سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ ستمبر 2026 کے اختتام تک زرعی قرضوں کا مجموعی حجم 1,352 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ 3,455,313 افراد اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ جون 2027 تک زرعی قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے اور مستفید ہونے والے کسانوں کی تعداد 45 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کسانوں کی معاشی بہتری، زرعی پیداوار میں اضافے اور غذائی تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے۔ چھوٹے کسانوں تک مالی وسائل کی رسائی کو ترجیح دی جائے تاکہ وہ جدید زرعی طریقے اپنا سکیں اور اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ زرعی فنانسنگ کے ذریعے چھوٹے کسانوں تک رسائی بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملک کا بڑا بینک وہی ہے جو چھوٹے کسان کا بھی بینک ہو۔وزیراعظم نے اسٹیٹ بینک پر زور دیا کہ قرضوں کی منظوری اور ادائیگی کے طریقہ کار کو مزید آسان بنایا جائے تاکہ عام شہریوں، چھوٹے کاروباری افراد اور کسانوں کو مالی معاونت کے حصول میں درپیش مشکلات کم کی جا سکیں۔ملاقات میں بینکوں کے وفد نے وزیراعظم کی قیادت میں معاشی استحکام اور ملکی معیشت کی سمت میں بہتری کے لیے حکومتی اقدامات کو سراہا اور معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔ وفد کے ارکان نے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی فراہمی کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون مزید بہتر بنایا جائے گا۔اجلاس میں وفاقی وزراءاحد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، ریاض حسین پیرزادہ اور عطاءاللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، نیشنل بینک، یونائیٹڈ بینک، حبیب بینک، میزان بینک، بینک الفلاح، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ، بینک آف پنجاب، بینک اسلامی اور ہاو¿س بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے صدور و چیف ایگزیکٹو افسران سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی
اہم خبرپاکستان
منظور شدہ قرضوں کی رقوم عوام کو بروقت پہنچائی جائیں,وزیراعظم شہباز شریف
