اہم خبرپاکستان

خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت ناگزیر تھی، دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی، خواجہ آصف

اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے س ایمرجنسی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا، دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور سیاسی قیادت کو ماضی کے واقعات بھی یاد رکھنے چاہئیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے خطاب کے جواب میں انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے سابقہ سیاسی مو¿قف، جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید سے متعلق ملاقاتوں اور دہشت گردوں کی واپسی کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کو کیوں بھلا دیا جاتا ہے؟ خواجہ آصف نے کہا کہ اپوزیشن کی تقاریر میں کئی معاملات اٹھائے گئے، لیکن ماضی کے حقائق کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ایک موقع پر جنرل فیض حمید اور جنرل باجوہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں انہیں قائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ دہشت گردوں کو واپس لانا پاکستان کے لیے بہتر ہوگا۔وزیر دفاع نے بانی پی ٹی آئی کے جنرل باجوہ سے متعلق سابقہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ اپنے والد کی بھی اتنی تعریف نہیں کرتے جتنی بانی پی ٹی آئی نے جنرل باجوہ کی تعریف کی۔ انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی معاملات میں ماضی کی باتوں اور واقعات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔خواجہ آصف نے اپنے دورِ اسیری کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں جیل میں ایک کمبل ملا تھا، جبکہ شہباز شریف نے کسی کے ذریعے ان کے لیے ایک اور کمبل بھجوایا تھا۔ ان کے مطابق وہ جیل کا کھانا کھاتے تھے اور وہاں انہیں مناسب کھانا ملتا تھا، تاہم ایک موقع پر گیزر اتارنے کا حکم بھی دیا گیا۔انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے جیل میں چیا سیڈز اور ٹوتھ پیسٹ سمیت سہولتوں کے معاملات اٹھانے پر طنزیہ انداز میں ردعمل دیا اور کہا کہ سیاسی رہنماں کو اپنے ماضی کے حالات اور واقعات بھی یاد رکھنے چاہئیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ وزیر داخلہ نے سینیٹ میں بھی اس معاملے کی تفصیلات بیان کی ہیں اور حکومت کے پاس موجودہ حالات میں ایمرجنسی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے ماضی میں بھی بہت سی غلطیاں رہی ہیں اور جب وہ کسی پر تنقید کرتے ہیں تو انہیں اپنی سابقہ غلطیاں بھی یاد آتی ہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ جب کوئی شخص افغانستان میں بیٹھ کر خیبرپختونخوا کی حکومت چلا رہا ہو تو حالات اسی نوعیت کے پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض ملاقاتیں ریکارڈ پر نہیں لائی جاتیں اور اہم فیصلوں میں ایسے افراد کا اثرورسوخ بھی رہا ہے جو بظاہر منظرعام پر نہیں ہوتے۔خواجہ آصف نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور پاکستان اس خطرے کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گا۔خواجہ آصف نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ تمام معاملات پر بات کرتے ہوئے ماضی کے واقعات اور دہشت گردی کے مسئلے کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ قومی اسمبلی میں بحث کے دوران خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ، دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور سیاسی مذاکرات کے معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان اختلافات نمایاں رہے

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *